جمعرات‬‮ ، 16 اپریل‬‮ 2026 

اسلام آباد کا ماسٹر پلان تباہ، شہر کو تورا بورا بنا دیا گیا، جسٹس اطہر امن اللہ شدید برہم

datetime 13  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے وفاقی دارالحکومت کا ماسٹر پلان اور ماحول تباہ کر دیا ہے۔وفاقی دارالحکومت میں زمینوں پر قبضے سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں ہوئی۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ امید نہیں تھی کہ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے

ہوتے ہوئے زمینوں پر قبضے ہوں گے، 1400 مربع میل کا دارالحکومت ہے جہاں کوئی قانون ہی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم درست کہتے ہیں کہ اداروں کو مافیا نے کنٹرول کر رکھا ہے، اور اسلام آباد اس کی بہتر مثال ہے، اسلام آباد کو تورا بورا بنا دیا گیا ہے۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ زمینوں پر قبضے کے لیے ڈپٹی کمشنر کا دفتر استعمال ہوتا ہے، اور فرنٹ مین کے ذریعے کام ہوتا ہے، کیا ریوینیو، سی ڈی اے اور پولیس افسران کی ملی بھگت کے بغیر قبضے ممکن ہیں؟انہوں نے کہا کہ زمینوں پر قبضوں کے کیسز میں سب سے زیادہ اوورسیز پاکستانی متاثر ہیں، سی ڈی اے سرکار کی زمین کسی اور کو دے رہی ہے، ماحولیاتی تباہی ہو رہی ہے، اسلام آباد میں درخت کٹ رہے ہیں، اور یہ سب طاقتور لوگ کر رہے ہیں۔جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ پنجاب نے کچھ اقدامات کیے کہ زمینوں پر قبضہ نہ ہو، لیکن اسلام آباد میں جان بوجھ کر کھلی چھوٹ دی گئی، اسلام آباد میں طاقتور کا غیر قانونی کام ہو تو کہتے ہیں ریگولرائز کر دو، کیا ہم آئینی عدالتیں بند کر دیں؟انہوں نے کہا کہ روزانہ کیسز آ رہے ہیں، غریب کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ زمینیں طاقتور کو دے دیں، تمام نظام کی بنیاد کرپشن پر ہے، سی ڈی اے بھی سہولت کار ہے، پٹواری خود مل کر زمینوں پر قبضے کروا رہے ہیں۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے استفسار کیا ڈپٹی کمشنر صاحب، کیا آپ نے کبھی تحقیق کی کہ زمینوں پر قبضے کے

کتنے کیسز ہیں؟ زمینوں پر قبضے کی تفتیش ایف آئی اے نیکرنی ہے جس کے افسر خود زمینیں فروخت کر رہے ہیں۔عدالت نے استفسار کیا کہ وزارت داخلہ، آئی بی کی اپنی ہاؤسنگ سوسائٹیز ہیں، کیا یہ کام کر سکتے ہیں؟ سب لوگ اس نظام کی تباہی کے ذمہ دار ہیں۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد سے کہا کہ کل سے کوئی شکایت نہیں ہونی چاہیے کہ کسی کی زمین پرقبضہ ہوا، کسی کی زمین پر قبضہ ہوا تو ڈی سی، تحصیلدار اور

ایس ایچ او ذمہ دار ہوں گے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ سی ڈی اے نے اسلام آباد کا ماسٹر پلان اور ماحول تباہ کر دیا۔عدالت نے پوچھا کہ ایف آئی اے کس قانون کے تحت ہاؤسنگ سوسائٹی چلا رہی ہے؟ کیا ڈپٹی کمشنر نے کبھی پوچھا کہ غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹی کیوں چل رہی ہے؟ڈی سی اسلام آباد نے بتایا کہ سینیٹ، قومی اسمبلی، داخلہ، کامرس وزارتوں کی ہاؤسنگ سوسائٹیاں غیر قانونی ہیں، میں ذمہ داری لیتا ہوں کہ آئندہ زمینوں پر قبضے کی کوئی شکایت نہیں ہو گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم


یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…