ایم ایل ون اوربھاشا ڈیم منصوبوں سے اقتصادی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں، بجلی اورتوانائی کے شعبہ کی بہتری اوراصلاحات وزیراعظم کی ترجیحات میں پہلے نمبرپر ہیں،ڈیڑھ لاکھ ملازمتوں کی خوشخبری سنا دی گئی

  منگل‬‮ 11 اگست‬‮ 2020  |  23:35

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم کے مشیربرائے خزانہ ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے کہاہے کہ آئی ایم ایف کے آنے سے پاکستان کے اعتمادمیں اضافہ ہواہے اور پاکستان پراچھا اثرہورہاہے،ایم ایل ون اوربھاشا ڈیم منصوبوں سے اقتصادی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں، ڈیڑھ لاکھ لوگوں کیلئے ملازمتیں پیداہوں گی، بجلی اورتوانائی کے شعبہ کی بہتری اوراصلاحات وزیراعظم عمران خان کی ترجیحات میں پہلے نمبرپر ہیں،حکومت سرکاری شعبہ کے کاروباری اداروں کی اصلاح اوربہتری میں پرعزم ہے،چھوٹے گھروں کی تعمیرکیلئے 5 فیصد کی شرح سے قرضے دئیے جائیں گے اورجو کمی ہوگی وہ حکومت اپنی جیب سے دے گی، ایف بی آر کے فاسٹرنظام


کو انسانی مداخلت سے آزاد کردیا ہے ،ادارہ جاتی اصلاحات کاعمل جاری ہے۔ ایک انٹرویومیں مشیر خزانہ نے کہاکہ مالی سال کے پہلے ماہ میں بالخصوص اندرونی اقتصادی اوربرآمدات سے متعلق سرگرمیوں میں ایک اچھے اندازسے اضافہ ہواہے، مالی سال کے پہلے ماہ میں دوارب ڈالرکی برآمدات ہوئیں جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے مقابلے میں 6 فیصدزیادہ ہے، برآمدات کو بڑھاناہماری خاص پالیسی ہے کیونکہ اگرہم زرمبادلہ کمانے میں کامیاب نہیں ہوں گے تو اس سے ہماری معیشت کئی اندازمیں مستحکم نہیں ہوسکتی، اس کے ساتھ ساتھ سمندرپارمقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات میں ایک اچھے اندازمیں اضافہ ہواہے، سیمنٹ کی پیداوراورفروخت میں 33 فیصد اضافہ ہواہے اورجولائی میں 4 ملین ٹن سیمنٹ فروخت ہوا ہے، پٹرول کی قیمت میں 8 فیصد اورڈیزل کی قیمت میں 15 فیصد اضافہ ہواہے، کھادوں کی فروخت میں 22 فیصد اضافہ ہواہے، ان اشاریوں سے واضح ہورہا ہے کہ پاکستان کی اندرونی معیشت میں تیزرفتاری آرہی ہے، محصولات اکھٹاکرنے کی شرح میں ہدف سے 23 فیصد زیادہ اضافہ ہواہے، محصولات کی مد میں جولائی میں 300 ارب روپے اکھٹے کئے گئے،سٹاک مارکیٹ پاکستان کی اقتصادی اعتماد کا ایک بنیادی پیمانہ ہے،سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری میں کووڈ۔ 19 کی وبا کے آغازسیلے کراب تک 47 فیصد اضافہ ہواہے، بلوم برگ نے پاکستان کی سٹاک مارکیٹ کو دنیا میں تیز رفتارترقی کرنے والی سٹاک مارکیٹ قراردیاہے، اسی طرح کریڈٹ ریٹنگ کے بین الاقوامی ادارہ موڈیز نے پاکستان کی معاشی پیش منظرکومستحکم قراردیاہے، ان عالمی اداروں کا تجزیہ آزادانہ ہوتا ہے اس لئے اقتصادی بڑھوتری کایہ عمل پائیدارہوگا۔انہوں نے کہاکہ بجٹ کا فلسفہ بڑھوتری پرمبنی تھا، بجٹ میں کوئی اضافی ٹیکس نہیں لگایا گیا، ہزاروں قسم کے خام مال ان پٹس پردرآمدی ڈیوٹی صفر کردی گئی، کئی ڈیوٹیز کو کم کیاگیا تاکہ پیداواری اخراجات میں کمی لائے جاسکے اوراپنے تاجروں کیلئے آسانیاں پیدا کی جائے، تاجروں کو کووڈ۔19 کے دوران اپنے ملازمین اورکاروباری سرگرمیوں کوجاری رکھنے کیلئے سبسڈائیزقرضے دئیے گئے،تاجروں کے ذمہ واجب الاداقرضوں کوایک سال کیلئے موخرکردیاگیا، ان کے بجلی کے بلز حکومت نے اداکئے تاکہ مشکل دورمیں وہ اپنے کاروبارکوجاری رکھ سکے اوراقتصادی سرگرمیوں کی بحالی کے ساتھ ہی وہ تیارہوں،اسی طرح حکومت نے مشکل حالات کے باوجودسالانہ ترقیاتی پروگرام میں کوئی کٹوتی نہیں کی، حکومت نے دوبڑے منصوبوں پرکام کاآغازکیا، بھاشاڈیم کیلئے اراضی کے حصول کےمسئلہ پرکام کیا گیا اوراس منصوبہ کاآغاز ہوا، ایم ایل ون پراجیکٹ کاآغازہواہے جوپاکستان کی تاریخ کا 6.8 ارب ڈالرمالیت کاسب سے بڑا میگا پراجیکٹ ہے، گزشتہ ڈیڑھ سوسال سے ریلوے ٹریکس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی تھی،اب ڈیڑھ سوسال کے بعد پورے پاکستان کیلئے اس ٹریک کوبدلاجارہا ہے، یہ ایک انقلابی تبدیلی ہوگی اورلاہورسے کراچی تک 160 کلومیٹرفی گھنٹہ سے زیادہ کی رفتارسےٹرینیں چلیں گی۔ انہوںنے کہاکہ کراچی سے لاہورکا فاصلہ 7 اورراولپنڈی سے لاہورکی مسافت ڈھائی گھنٹہ ہوجائے گی، ان منصوبوں سے اقتصادی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں، ڈیڑھ لاکھ لوگوں کیلئے ملازمتیں پیداہوں گی۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ مالی سال میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کیلئے مختص 90 فیصد فنڈز کواستعمال میں لایا گیاہے۔ جاری مالی سال میں بھی پی ایس ڈی پی کیلئے زیادہ فنڈز مختص کئے گئے ہیںاورحکومت پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے تحت کئی منصوبے شروع کریگی،حکومت نے پاکستان کی تاریخ کاسب سے بڑاتعمیراتی پیکج دیا ہے، اس شعبہ کیلئے ٹیکسوں کی تعداداورشرح کو کم کیاگیا، نیا پاکستان ہائوسنگ پراجیکٹ کیلئے دوبڑے اقدامات کئے گیے، سبسڈی کی مدمیں 30 ارب روپے رکھے گئے ہیں، اسی طرح چھوٹے گھروں کی تعمیرکیلئے 5 فیصد کی شرح سے قرضے دئیے جائیں گےاورجو کمی ہوگی وہ حکومت اپنی جیب سے دے گی، اس پراجیکٹ میں سرمایہ کاری کرنے والوں کیلئے ٹیکسوں میں 90 فیصد کی چھوٹ کی سہولت دی گئی ہے،انہی اقدامات کے نتیجہ میں اسلام آباد میں جو حالیہ نیلامی ہوئی وہ غیرمعمولی تھی، وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد اورلاہور میں بھی کئی منصوبوں کاآغازکیاہے جس سے پاکستان کے اقتصادی منظر نامہ کو مزیدبہترکرنے میں مدد ملے گی۔حفیظ شیخ نے کہاکہ آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کے پروگرام کی ایک مرکزی حیثیت ہے، آئی ایم ایف دنیا کا سب سے بڑامالیاتی ادارہ ہے، پروگرام کے تحت آئی ایم ایف پاکستان کی مددکررہاہے، جب آئی ایم ایف کسی ملک کے ساتھ کھڑا ہو تودوسرے مالیاتی ادارے جیسے عالمی بینک اورایشیائی ترقیاتی بینک بھی وہیں سے اشارے لیتے ہیں، آئی ایم ایف کے آنے سے پاکستان کے اعتمادمیں اضافہ ہواہے اوراس کاپاکستان پراچھا اثرہورہاہے، کووڈ۔ 19 کے دورمیں آئی ایم ایف نے تیزرفتاری سے بہترشرح پر پاکستان کو 1.4 ارب ڈالرکی معاونت فراہم کی،اسی طرح تعمیراتی پیکج کیلئے آئی ایم ایف نے استثنیٰ دیا ہیں، اسی طرح کووڈ۔19 کے دورمیں تاجروں اورچھوٹے درمیانہ درجہ کے کاروبار کیلئے کیش کی فراہمی اورمعاشرے کے غریب اورکمزورطبقات کیلئے حکومتی امداد پربھی آئی ایم ایف نے تعاون فراہم کیا۔انہوں نے کہاکہ بجلی اورتوانائی کے شعبہ کی بہتری اوراصلاحات وزیراعظم عمران خان کی ترجیحات میں پہلے نمبرپرہے،وزیراعظم نے آج بھی اس حوالہ سے اجلاس منعقد کئے ہیں اوران میں جوفیصلے ہوئے ہیں ان کے نٖفاذ اوراثرات آنے والے ہفتوں اورمہینوں میں سامنے آئیں گے، ان فیصلوں میں بجلی کے بلوں کی کلیکشن کو بہترکرنا، ڈسٹری بیوشن لاسز کوکم کرنا، آئی پی پیز کے ساتھ ایشوز کومذاکرات کوآنے والے چند دنوں میں اچھے اندازمیں ختم کرنا، متبادل توانائی کے پیداورمیں اضافہ اوربجلی کی تقسیم کارکمپنیوں میں نجی شعبہ کی شمولیت شامل ہیں۔بجلی کا پوراشعبہ بہت پیچیدہ ہے،اس میں ہرانداز کے مافیاز اورمزاحمت کے ذرائع موجود ہیں، لیکن ہم اس مقام پرپہنچے ہیں کہ فیصلوں کے نٖفاذمیں مزیدکوتاہی نہیں ہوسکتی،آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام میں بھی اس کا ایک کردارہے، ہم آئی ایم ایف،عالمی بینک اورایشیائی ترقیاتی بینک کے ساتھ مل کرایک جامع حکمت عملی بنارہے ہیں، فیصلوں کے اطلاق کے عمل کوتیزکرنے کیلئے شہزادقاسم کوزمہ داری سونپ دی گئی ہے،انہوں نے کہاکہ کئی ملکوںمیں سرکاری شعبہ کے کاروباری اداروں میں اصلاحات اتنے زیادہ موثرثابت نہیں ہوتے،موجودہ حکومت ان اداروں میں نجی شعبہ کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کیلئے اقدامات کررہی ہے، سٹیل ملز میںپانچ سال سے کوئی سٹیل نہیں بنی ہے، ہمیں اس میں فوری طورپرسرمایہ کاری لاکر اسے نئے اندازمیں چلانا ہے،اس کیلئے ایک پراسیس چل رہاہے، نجکاری کمیشن بھی کئی طرح کی قوانین کی وجہ سے محتاط اندازمیں چل رہاہے، حکومت سرکاری شعبہ کے کاروباری اداروں کی اصلاح اوربہتری میں پرعزم ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اپنی تاریخ میں محصولات اکھٹاکرنے اوربرآمدات بڑھانے میں ناکام رہاہے،موجودہ حکومت ان دونوں شعبوں کوبہتربنائیگی،گزشتہ مالی سال میں بھی کوروناوائرس کی وباء سے قبل محصولات اکھٹاکرنے کی شرح میں 17 فیصد اضافہ ہورہا تھا،رواں مالی سال کے پہلے ماہ میں بھی ٹارگٹ اورگزشتہ سال کے مقابلے میں محصولات اکھٹاکرنے کی شرح زیادہ ہے، حکومت ری فنڈز کے نظام کو نئے اندازمیں استوارکرناچاہتی ہے،اس حوالہ سے گزشتہ روز فیصلے ہوئے ہیں،گزشتہ مالی سال میں ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ 240 ارب روپے کے ری فنڈزدئیے گئے،انکم ٹیکس کے 2014 سے ری فنڈز کی ادائیگی کافیصلہ کیا گیاہے ، اگلے ہفتہ سے پانچ کروڑ روپے مالیت کی ری فنڈز جاری ہوں گے،اسی طرح ایف بی آر میں ماہانہ ری فنڈز فنڈ قایم کرنے اوراس میں 10 ارب روپے رکھنے کافیصلہ ہواہے تاکہ پیسوں کی کمی کا کوئی بہانہ باقی نہ رہے، ری فنڈز کے معاملہ میںبدعنوانی کوکسی صورت میں برداشت نہیں کیاجائیگا۔ایف بی آر کے فاسٹرنظام کو انسانی مداخلت سے آزاد کردیا گیاہے،ادارہ جاتی اصلاحات کاعمل جاری ہے، آٹومیشن کیلئے بڑی رقوم مختص کی گئی ہے، عالمی بینک کے ساتھ ایک بڑا پراجیکٹ بھی شروع کیاگیاہے، یہ دیرینہ مسائل ہیں اوراس کے حل میں کچھ وقت لگے گا۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بالا مستری

ہم اگر حضرت عمر فاروقؓ کی شخصیت کو دو لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو ”عدل فاروقی“ لکھ دینا کافی ہو گا‘ حضرت عمرؓ انصاف کے معاملے میں انقلابی تھے‘ یہ عدل کرتے وقت شریعت سے بھی گنجائش نکال لیتے تھے مثلاً حجاز اور شام میں قحط پڑا‘ لوگوں نے بھوک سے تنگ آ کر خوراک چوری کرنا ....مزید پڑھئے‎

ہم اگر حضرت عمر فاروقؓ کی شخصیت کو دو لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو ”عدل فاروقی“ لکھ دینا کافی ہو گا‘ حضرت عمرؓ انصاف کے معاملے میں انقلابی تھے‘ یہ عدل کرتے وقت شریعت سے بھی گنجائش نکال لیتے تھے مثلاً حجاز اور شام میں قحط پڑا‘ لوگوں نے بھوک سے تنگ آ کر خوراک چوری کرنا ....مزید پڑھئے‎