جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

ایک سیزن میں 18من سے زائد مچھلی کی پیداوار پاکستان کی معروف یونیورسٹی نے حیرت انگیز سسٹم متعارف کروادیا

datetime 11  اگست‬‮  2020 |

فیصل آباد  (آن لائن) زرعی یونیورسٹی فیصل آبادکے ماہرین نے مقامی طور پر بائیوفلوک ایکواکلچرکا ایسا سسٹم متعارف کروایا ہے جس کے ذریعے زیادہ رقبے پر پھیلے مچھلی کے کھلے تالاب کی نسبت صرف ایک مرلہ رقبے میں 6500لیٹر پانی کے تین پلاسٹک پونڈز معمولی لاگت میں تیار کرکے ایک سیزن میں 18من سے زائد مچھلی پیدا کی جا سکے گی۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر

پروفیسرڈاکٹر محمد اشرف (ہلال امتیاز) نے ڈین کلیہ سائنسز ڈاکٹر اصغر باجوہ’ چیئرمین شعبہ وائلڈ لائف اینڈ فشریز ڈاکٹر حماد احمد خاں’ پرنسپل آفیسراسٹیٹ مینجمنٹ ڈاکٹر قمر بلال کے ہمراہ بائیوفلوک ایکواکلچرپونڈزکا افتتاح کیا۔ انہوں نے ٹیکنالوجی کو اہم پیش رفت سے تعبیر کرتے ہوئے نچلی سطح پر مچھلی پیدا کرنے کیلئے قابل عمل منصوبہ قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی میں قائم کیاجانیوالا ایکواکلچریونٹ سرکاری سطح پر اپنی نوعیت کا پہلا یونٹ ہوگا جہاں عام تالاب کے مقابلہ میں کم رقبہ’ کم پانی اور خوراک کی 40فیصد بچت ممکن ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ صرف 25ہزار روپے میں تیار ہونیوالے 10فٹ قطر کے پلاسٹک پونڈ کو دس سال سے زائد عرصہ تک کام میں لایا جا سکے گا جس سے ایک سیزن میں بیکٹریا سے پیدا ہونیوالی قدرتی خوراک کواستعما ل میں لاکر بڑی ہونیوالی چھ من سے زائد مچھلی پیدا کی جا سکے گی ۔ منصوبے کے روح رواں ڈاکٹر عبدالمتین نے بتایا کہ مذکورہ ٹیکنالوجی کے ذریعے وہ مچھلی کے روایتی تالاب سے بہت کم رقبے ‘سرمائے اور خوراک سے تیار ہونیوالی مچھلی مارکیٹ میں لائیں گے جس کی پیداواری لاگت بہت کم ہونے سے اس کاروبار سے وابستہ افراد کا منافع بڑھایا جاسکے گا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…