فضل الرحمان 2 بڑی جماعتوں سے ناراض، اپوزیشن کی مشترکہ احتجاجی تحریک خطرے میں پڑگئی، حکومت کیخلاف اکیلے ہی محاذ کھولنے کا فیصلہ

  ہفتہ‬‮ 8 اگست‬‮ 2020  |  21:55

اسلا م آباد (این این آئی) اپوزیشن جماعتوں میں عدم اعتماد کے باعث حکومت کے خلاف مشترکہ احتجاجی تحریک کھٹائی میں پڑگئی اور آل پارٹیز کانفرنس کے امکانات بھی کم ہوگئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بلز کی منظوری کے دوران بڑی جماعتوں کے کردار سے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان ناراض ہیں۔ ذرائع کے مطابق جے یو آئی نے حکومت کے خلاف اکیلے تحریک چلانے کی تیاریاں شروع کردی ہیں،اس سلسلے میں مولانافضل الرحمان نے 7 ستمبر کو پشاور میں احتجاجی جلسے اور ریلی کی کال بھی دےدی ہے۔ذرائع


کا کہنا ہے کہ احتجاجی تحریک سے قبل مولانافضل الرحمان نے مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی سے تحریری معاہدے کی شرط بھی رکھ دی ہے۔ذرائع کے مطابق عید سے قبل مولانا فضل الرحمان نے ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی قیادت سے تحریری معاہدے کی یقین دہانی کروائی تھی تاہم اس کے باوجود دونوں جماعتوں نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں قانون سازی میں حکومت کا ساتھ دیا۔اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کے ایجنڈے کے لیے عید کے بعد رہبرکمیٹی کا اجلاس بھی ہونا تھا تاہم دونوں بڑی جماعتوں کے کردار نے مولانا فضل الرحمان کو ناراض کردیا ہے۔


زیرو پوائنٹ

قاسم پاشا کی گلیوں میں

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎