’’ہم اکیلے کھڑے رہ گئے کسی برادر اسلامی ملک نے ہمارے کندھے پر ہاتھ نہ رکھا‘‘ ہمارے برادر اسلامی ملک اب کلبھوشن یادیو کی رہائی کے لیے بھی ہم پر دباؤ ڈال رہے ہیں ہم ناراضی سے بچنے کیلئے کیا کر تے پھر رہے ہیں ؟ انکشافات نے نیا پنڈورا باکس کھول دیا

  جمعہ‬‮ 7 اگست‬‮ 2020  |  13:28

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر کالم نگار جاوید چودھری اپنے کالم ’’ اتنی دیر میں تو ‘‘میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔۔آپ دل پر ہاتھ رکھ کر یہ جواب دیجیے اگر ہمارے برادر اسلامی ملک پانچ اگست 2019ءکو صرف ایک سال کے لیے اپنے پاسپورٹس پر ناٹ فار انڈیا لکھ دیتے یا یہ بھارتی ملازمین کو اپنے ملکوں سے نکل جانے کا حکم دے دیتے تو کیا آج ایک سال بعد مقبوضہ کشمیر میں فوج یا کرفیو ہوتا؟ہرگز نہ ہوتا مگر ہمارا ساتھ دینا تو دور ہمارے برادر اسلامی ملکوں نے 18 جون 2020ءکو بھارت کو سلامتی کونسل کاغیرمستقل ممبر بنوانے کے لیے


تاریخی ووٹ دیے۔ہم اکیلے کھڑے رہ گئے اور کسی برادر اسلامی ملک نے ہمارے کندھے پر ہاتھ نہ رکھا‘ ہمارے برادر اسلامی ملکوں نے نریندر مودی کو کشمیر پر قبضے کے بعد اعلیٰ اعزازات سے بھی نوازا تھا اور پاکستان کو کشمیر پر او آئی سی کا اجلاس بھی نہیں بلانے دیا اور ہیومن رائیٹس کمیشن کی قرارداد پر ووٹ بھی نہیں دیے تھے‘ یہ ظلم اگر یہاں تک محدود رہ جاتا تو بھی شاید ہمارا بھرم رہ جاتا لیکن ہمارے برادر اسلامی ملک اب کلبھوشن یادیو کی رہائی کے لیے بھی ہم پر دباؤ ڈال رہے ہیں اور ہم ان کی ناراضی سے بچنے کے لیے آئین میں ترامیم کر رہے ہیں اور یہ ہیں وہ حقائق جن کا سامنا کرنے کی بجائے ہم نقشے بدل رہے ہیں اور اس پر ڈھول بھی بجا رہے ہیں۔خدا کے لیے اب تو جاگ جائیں‘ اب تو حقیقتوں کا سامنا کرنا شروع کر دیں‘ اب تو بے وقوف نہ بنیں‘ خدا کے لیے جان لیں دنیا میں اگر نقشوں سے قوموں کے مقدر بدلے جا سکتے تو ہم فوراً سڑکوں کے نام تبدیل کر دیتے‘ ہم فوراً عمران خان کے ساتھ امیرالمومنین لکھ دیتے‘ ہم فوراً پاکستان کا نام ریاست مدینہ رکھ دیتے‘ روپے کو اشرفیاں کہنا شروع کر دیتے اور ہم فوراً پاکستان کے سلیبس میں خلافت عثمانیہ کا نقشہ شامل کر دیتے لیکن افسوس قوموں کے مقدر لفظوں اور نقشوں سے نہیں بنتے یہ عمل‘ عقل اور ہمت سے بنتے ہیں اور ہماری ریاست کی ہمت کی حالت یہ ہے پشاور کی ایک عدالت میںایک ملزم کو جج کی موجودگی میں قتل کر دیا گیا مگر پوری ریاست میں اس واقعے کی مذمت کی ہمت نہیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بالا مستری

ہم اگر حضرت عمر فاروقؓ کی شخصیت کو دو لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو ”عدل فاروقی“ لکھ دینا کافی ہو گا‘ حضرت عمرؓ انصاف کے معاملے میں انقلابی تھے‘ یہ عدل کرتے وقت شریعت سے بھی گنجائش نکال لیتے تھے مثلاً حجاز اور شام میں قحط پڑا‘ لوگوں نے بھوک سے تنگ آ کر خوراک چوری کرنا ....مزید پڑھئے‎

ہم اگر حضرت عمر فاروقؓ کی شخصیت کو دو لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو ”عدل فاروقی“ لکھ دینا کافی ہو گا‘ حضرت عمرؓ انصاف کے معاملے میں انقلابی تھے‘ یہ عدل کرتے وقت شریعت سے بھی گنجائش نکال لیتے تھے مثلاً حجاز اور شام میں قحط پڑا‘ لوگوں نے بھوک سے تنگ آ کر خوراک چوری کرنا ....مزید پڑھئے‎