جمعہ‬‮ ، 06 مارچ‬‮ 2026 

ایمان اور عقیدے کے رشتے کوکوئی خراب نہیں کر سکتا،حافظ طاہر محمود اشرفی نے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو لازوال قرار دیدیا

datetime 6  اگست‬‮  2020 |

لاہور(پ ر)سعودی عرب کی حکومت نے کرونا کی وبا ء کے باوجود حج کے بہترین انتظامات کر کے عالم اسلام کے مسلمانوں کے دلوں کی ترجمانی کی ہے، امت مسلمہ کو سعودی عرب کی حکومت اور قیادت کی مسلمانوں کیلئے خدمات پر ہمیشہ فخر رہاہے، کشمیر کے مسئلہ پر سعودی عرب کا کردار دیگر اسلامی ممالک سے کہیں زیادہ اور بہتر ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات لازوال ہیں۔

ہمارے ایمان اور عقیدے کے تعلقات ہیں جنہیں کوئی خراب نہیں کر سکتا۔ یہ بات چیئرمین پاکستان علما کونسل و صدر دارالافتا پاکستان حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے اپنے ایک بیان میں کہی۔انہوں نے کہا کہ کرونا کی وبا کی وجہ سے توقع کی جا رہی تھی کہ اس سال حج ملتوی ہو جائے گا لیکن سعودی عرب کی حکومت نے تمام تر احتیاطی تدابیر کو اختیار کر کے حج کو ملتوی کرنے کی بجائے حج کو محدود کیا۔ 156 ممالک کے شہریوں نے حج بیت اللہ کو ادا کیا جو تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی حکومت اور عوام نے ہمیشہ اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کی ہے اور سعودی عرب کاامت مسلمہ کیلئے قائدانہ کردار سب کے سامنے ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات لازوال ہیں اور ہمارے تعلقات ایمان اور عقیدے کے رشتے پر مبنی ہیں جنہیں کوئی خراب نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی صورتحال پر سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کے موقف کی تائید و حمایت کی ہے اور دیگر اسلامی ممالک کے مقابلے میں سعودی عرب کا کشمیر کے مسئلے پر موقف قابل تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم کی قیادت ایک سال قبل سعودی عرب کے پاس آئی ہے اور اسلامی تعاون تنظیم نے ایک سال کے عرصہ کے دوران کشمیر کے مسئلے پر ماضی سے کہیں بہتر اقدامات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رابطہ عالم اسلامی کی مرکزی سپریم کونسل کے اجلاس میں کشمیر

کے ایجنڈے کو باقاعدہ اجلاس کا حصہ دیگر ممالک کے ایجنڈوں کی طرح رکھا گیا تھا جو ایک سعودی عرب اور دنیا اسلام کی واحد اسلامی تنظیم رابطہ عالم اسلامی کا کشمیر کے حوالے سے موقف بھی واضح ترجمانی ہے۔ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ خارجہ امور ایک حساس معاملہ ہے ہمیں جذبات کی بجائے عقل و دانش و فہم کے ساتھ خارجہ امور پر بات کرنی چاہیے، پاکستان دشمن قوتیں چاہتی ہیں کہ کسی بھی طرح سے

سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات خراب ہوں اور پاکستان عرب ممالک سے دور ہو جس کی ہم نے ماضی میں جھلک دیکھی ہے۔سپہ سالار قوم جنرل قمرجاوید باجوہ کی محنتوں اور کوششوں سے پاکستان عرب اور اسلامی ممالک کے ایک بار پھر قریب ہوا ہے اور اگر کوئی یہ خواہش رکھتا ہے کہ وہ پاکستان کو عرب اسلامی ممالک سے دور کرے تو پوری نہیں ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ چالیس لاکھ پاکستانی عرب ممالک میں کام کرتے ہیں اور پاکستان کیلئے قوت کا باعث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ سعودی عرب کی عوام اور سعودی عرب کی حکومت اور عرب اسلامی دنیا کشمیر کی صورتحال اور حساسیت کو دیکھتے ہوئے مثبت اور عملی اقدامات اٹھائے گی اور ہم او آئی سی سے بھی یہ توقع رکھتے ہیں کہ او آئی سی بھی فلسطین اور کشمیر کے مسئلے پر فوری طور پر عملی اقدامات اٹھائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



عربوں کا کیا قصورہے؟


ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…