بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

ایمان اور عقیدے کے رشتے کوکوئی خراب نہیں کر سکتا،حافظ طاہر محمود اشرفی نے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو لازوال قرار دیدیا

datetime 6  اگست‬‮  2020 |

لاہور(پ ر)سعودی عرب کی حکومت نے کرونا کی وبا ء کے باوجود حج کے بہترین انتظامات کر کے عالم اسلام کے مسلمانوں کے دلوں کی ترجمانی کی ہے، امت مسلمہ کو سعودی عرب کی حکومت اور قیادت کی مسلمانوں کیلئے خدمات پر ہمیشہ فخر رہاہے، کشمیر کے مسئلہ پر سعودی عرب کا کردار دیگر اسلامی ممالک سے کہیں زیادہ اور بہتر ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات لازوال ہیں۔

ہمارے ایمان اور عقیدے کے تعلقات ہیں جنہیں کوئی خراب نہیں کر سکتا۔ یہ بات چیئرمین پاکستان علما کونسل و صدر دارالافتا پاکستان حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے اپنے ایک بیان میں کہی۔انہوں نے کہا کہ کرونا کی وبا کی وجہ سے توقع کی جا رہی تھی کہ اس سال حج ملتوی ہو جائے گا لیکن سعودی عرب کی حکومت نے تمام تر احتیاطی تدابیر کو اختیار کر کے حج کو ملتوی کرنے کی بجائے حج کو محدود کیا۔ 156 ممالک کے شہریوں نے حج بیت اللہ کو ادا کیا جو تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی حکومت اور عوام نے ہمیشہ اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کی ہے اور سعودی عرب کاامت مسلمہ کیلئے قائدانہ کردار سب کے سامنے ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات لازوال ہیں اور ہمارے تعلقات ایمان اور عقیدے کے رشتے پر مبنی ہیں جنہیں کوئی خراب نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی صورتحال پر سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کے موقف کی تائید و حمایت کی ہے اور دیگر اسلامی ممالک کے مقابلے میں سعودی عرب کا کشمیر کے مسئلے پر موقف قابل تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم کی قیادت ایک سال قبل سعودی عرب کے پاس آئی ہے اور اسلامی تعاون تنظیم نے ایک سال کے عرصہ کے دوران کشمیر کے مسئلے پر ماضی سے کہیں بہتر اقدامات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رابطہ عالم اسلامی کی مرکزی سپریم کونسل کے اجلاس میں کشمیر

کے ایجنڈے کو باقاعدہ اجلاس کا حصہ دیگر ممالک کے ایجنڈوں کی طرح رکھا گیا تھا جو ایک سعودی عرب اور دنیا اسلام کی واحد اسلامی تنظیم رابطہ عالم اسلامی کا کشمیر کے حوالے سے موقف بھی واضح ترجمانی ہے۔ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ خارجہ امور ایک حساس معاملہ ہے ہمیں جذبات کی بجائے عقل و دانش و فہم کے ساتھ خارجہ امور پر بات کرنی چاہیے، پاکستان دشمن قوتیں چاہتی ہیں کہ کسی بھی طرح سے

سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات خراب ہوں اور پاکستان عرب ممالک سے دور ہو جس کی ہم نے ماضی میں جھلک دیکھی ہے۔سپہ سالار قوم جنرل قمرجاوید باجوہ کی محنتوں اور کوششوں سے پاکستان عرب اور اسلامی ممالک کے ایک بار پھر قریب ہوا ہے اور اگر کوئی یہ خواہش رکھتا ہے کہ وہ پاکستان کو عرب اسلامی ممالک سے دور کرے تو پوری نہیں ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ چالیس لاکھ پاکستانی عرب ممالک میں کام کرتے ہیں اور پاکستان کیلئے قوت کا باعث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ سعودی عرب کی عوام اور سعودی عرب کی حکومت اور عرب اسلامی دنیا کشمیر کی صورتحال اور حساسیت کو دیکھتے ہوئے مثبت اور عملی اقدامات اٹھائے گی اور ہم او آئی سی سے بھی یہ توقع رکھتے ہیں کہ او آئی سی بھی فلسطین اور کشمیر کے مسئلے پر فوری طور پر عملی اقدامات اٹھائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…