منگل‬‮ ، 03 فروری‬‮ 2026 

ہم شاید آج نیو کلیئر پاور نہ ہوتے،جنرل ضیاء الحق بھی اور میاں نواز شریف بھی‘ ڈاکٹر عبدالقدیر اور ڈاکٹر ثمر مبارک مند بھی ایٹمی پروگرام کا کریڈٹ لینے کے دعوے دار ہیں لیکن اس منصوبے کا اصل کریڈٹ کس شخصیت کو جاتا ہے؟ یہ کون ہیں جن کی مرضی اور دستخطوں سے ایٹمی پروگرام کی تمام اینٹیں لگیں؟تہلکہ خیزتفصیلات سامنے آگئیں

datetime 28  جولائی  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر کالم نگار جاوید چوھردی اپنے کالم ’’بند مینجمنٹ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا کریڈٹ بے شمار لوگ لیتے ہیں‘ یہ سہرہ ذوالفقار علی بھٹو بھی اپنے سر پر باندھتے تھے‘ جنرل ضیاء الحق بھی اور میاں نواز شریف بھی‘

ڈاکٹر عبدالقدیر اور ڈاکٹر ثمر مبارک مند بھی دعوے دار ہیں لیکن دنیا کی پہلی اسلامی نیو کلیئر پاور کا اصل کریڈٹ غلام اسحاق خان کو جاتا ہے‘ یہ اگر نہ ہوتے تو ہم شاید آج نیو کلیئر پاور نہ ہوتے‘ غلام اسحاق خان کون ہیں؟ آج کی نسل ان کے نام ہی سے واقف نہیں ہو گی۔غلام اسحاق خان سول سرونٹ تھے‘ پاکستان بننے سے پہلے سول سروس جوائن کی ‘ مجسٹریٹ سے ترقی کرتے کرتے وفاقی سیکریٹری بنے‘ چیئرمین سینیٹ ہوئے اور آخر میں صدر پاکستان بن گئے‘ یہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے روح رواں بھی تھے‘کہوٹہ پلانٹ سے لے کر چاغی کی اس ٹنل تک جس میں پاکستان نے 28 مئی 1998 کو ایٹمی دھماکے کیے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی تمام اینٹیں غلام اسحاق خان کی مرضی اور دستخطوں سے لگی تھیں‘ یہ ایٹمی پروگرام کے مالیاتی امور دیکھتے تھے اور اس میں انھوں نے کسی سیاسی مجبوری کو آڑے نہیں آنے دیا۔مسافر کی غلام اسحاق خان سے صرف ایک ملاقات تھی‘ یہ 1993 میں صدارت سے فارغ ہونے کے بعد پشاور چلے گئے اور اپنی زندگی کے آخری ایام اسی شہرمیں گزار دیے‘

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…