حکمرانوں کی سلیکشن غلط ثابت ،ٹیم نے ملکی سالمیت کو بھی داؤ پر لگا دیا مستعفی ہونے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں رہا ،کھری کھری سنا دی گئیں

  ہفتہ‬‮ 25 جولائی‬‮ 2020  |  10:07

شیخوپورہ (این این آئی) نواز لیگ کے مرکزی رہنماء رکن قومی اسمبلی میاں جاوید لطیف نے کہا ہے کہ حکومت کے پاس مستعفی ہونے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں رہا عوام دن رات مہنگائی اور غریب کی چکی میں پس رہے ہیں موجودہ حکمرانوں کی سلیکشن غلط ثابت ہوئی ہے اس ٹیم نے ملک کی سالمیت کو بھی داؤ پر لگا دیا ہے بھارتی جاسوس سے پر اسرار ہمدردیوں نے

عمران خان کے اصل چہرہ کو بے نقاب کر دیا ہے عوام الناس کی خاطر سینہ سپر ہونے والے عوامی لیڈروں کو عوام کبھی نہیں بھولتے صدر مرکزی انجمن تاجران مرحوم میاں پرویز کا شمار بھی تاجر برادری اور نواز لیگ کے ایسے لیڈروں میں ہوتا  تھا جنہوں نے مشکل ترین حالات کا بھی جوانمردی کے ساتھ مقابلہ کیا ان خیالات کا اظہار میاں جاوید لطیف نے مرکزی انجمن تاجران کے بانی صدر میاں محمد پرویز کی یاد میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ موجودہ حکمران اپنی ناکامی تسلیم کریں اور ملک میں نئے انتخابات کروائے جائیں تاکہ ملک کسی بڑے سانحہ سے محفوظ رہے انہوں نے میاں محمد پرویز کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ 35 برس تک مرکزی انجمن تاجران کے صدر رہے اور اس دوران انہوں نے تاجر برادری کے حقوق کے تحفظ کے لیے کئی جھوٹے مقدمات کا بھی سامنا کیا ہم توقع کرتے ہیں کہ ان کا فرزند میاں محمد ذیشان پرویز اپنے والد کے نقش قدم پر چل کر تاجر برادری کے حقوق کے تحفظ کا علم بلند کیے رکھے گا تعزیتی ریفرنس سے جنرل سیکرٹری مرکزی انجمن تاجران ملک پرویز اقبال تجارتی تنظیموں کے عہدیداروں چوہدری احمد خورشید شیخ محمد رفیق ملک قاسم محمود ہیرا ملک پرویز شیخ محمد یعقوب حاجی ملک محمد بوٹا رانا اشرف خان میاں عبدالرشید میاں محمد رفیق بٹالوی شیخ عظیم جاوید نوید احمد رانا محمد عمران محمد خالد عثمانی خالد مغل رانا ریاض احمد میاں محمد لطیف لیاقت علی اور دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے میاں محمد پرویز مرحوم کی تاجر برادری کے حقوق کے تحفظ کیلئے خدمات پر انہیں شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا اور مطالبہ کیا کہ مین بازار کو میاں محمد پرویز کے نام سے منسوب کیا جائے۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

چودھری برادران میں پھوٹ کیسے پڑی؟

میں نے مونس الٰہی سے پوچھا ’’خاندان میں اختلافات کہاں سے شروع ہوئے؟‘‘ ان کا جواب تھا’’جائیداد کی تقسیم سے‘ ظہور الٰہی فیملی نے اپنے اثاثے ہمارے بچپن میں آپس میں تقسیم کر لیے تھے صرف لاہور کا گھر رہ گیا تھا‘ یہ گھر ہمارے نانا چودھری ظہور الٰہی نے بنانا شروع کیا تھا لیکن مکمل ہونے سے قبل ہی ....مزید پڑھئے‎

میں نے مونس الٰہی سے پوچھا ’’خاندان میں اختلافات کہاں سے شروع ہوئے؟‘‘ ان کا جواب تھا’’جائیداد کی تقسیم سے‘ ظہور الٰہی فیملی نے اپنے اثاثے ہمارے بچپن میں آپس میں تقسیم کر لیے تھے صرف لاہور کا گھر رہ گیا تھا‘ یہ گھر ہمارے نانا چودھری ظہور الٰہی نے بنانا شروع کیا تھا لیکن مکمل ہونے سے قبل ہی ....مزید پڑھئے‎