بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

رپورٹس سامنے آگئیں تو یہ لوگ ایکسپوز ہوجائیں گے، اس جہاز کو کوئی چلانے کے لئے تیار نہیں تھا، میرے بیٹے کو چلانے کے لئے خراب جہاز دیا تھا،شہید کو پائلٹ کی والدہ عدالت پہنچ گئیں

datetime 24  جولائی  2020 |

کراچی (این این آئی)سندھ ہائیکورٹ نے چترال میں اے ٹی آر طیارہ اور کراچی میں پی آئی اے جہاز حادثہ کیس میں شفاف تحقیقات کرانے سے متعلق درخواست پر فریقین سے18 اگست کو مزید تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔سندھ ہائیکورٹ میں چترال میں اے ٹی آر طیارہ اور کراچی میں پی آئی اے جہاز حادثہ کیس میں شفاف تحقیقات کرانے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،سول ایوی ایشن نے ضمنی رپورٹ عدالت میں پیش کردی

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کیس سے متعلق مزید تحقیقات جاری ہیں،حتمی رپورٹ کے لیے مہلت دی جائے جس پر عدالتی معاون حسیب جمالی ایڈووکیٹ نے بتایا کے سول ایوی ایشن والے جان بوجھ کر حقائق سامنے نہیں لارہے طیارہ حادثے سے متعلق رپورٹس سامنے آگئیں تو یہ لوگ ایکسپوز ہوجائیں گے، جس پر عدالت نے سول ایوی ایشن سے مزید تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی، چترال میں اے ٹی آر طیارہ حادثے شہید ہونے والے کو پائلٹ کی والدہ بھی انصاف کے لیے عدالت پہنچ گئیں انکا کا کہنا تھا کہ میرا بیٹا پائلٹ احمد منصور جنجوعہ چار سال قبل اے ٹی آر طیارہ حادثے میں شہید ہوگیا تھا چار سال سے انصاف کے حصول کے لئے دھکے کھا رہی ہوں انہوں نے میرے بیٹے کو چلانے کے لئے خراب جہاز دیا تھامیرے بیٹے کو اس جہاز کو چلانے کے لئے چڑھا دیا گیا جو طویل عرصے سے خراب تھا میں انصاف کے لیے سول ایوی ایشن اور جگہ جگہ دھکے کھا رہی ہوں میں چاہتی ہوں کہ اب عدالت مجھے انصاف دے اگر جہاز خراب تھا تو کیوں میرے بیٹے کو جھاز پر بٹھا دیا گیا والدہ کا مزید کہنا تھا کے اس جہاز کو کوئی چلانے کے لئے تیار نہیں تھا سب جانتے تھے کہ وہ جہاز خراب ہے خراب جہاز کو کپتان نے ٹھیک نہیں کرنا ہوتا، وہ تو سول ایوی ایشن اور انجنیئرز کا کام ہے شہید پائلٹ احمد منصور جنجوعہ پانچ بہنوں کا اکلوتا بھائی اور واحد کمانے والا تھا میرے شوہر بھی کپتان تھے وہ بھی جاں بحق ہوگئے ہیں ان کا کیس بھی طویل عرصے سے چل رہا ہے لیکن ابھی تک انصاف نہیں ملا اے ٹی آر طیارہ 2016 میں چترال میں حادثے کا شکار ہوا تھااے ٹی ار طیارہ حادثے میں جنید جمشید بھی شہید ہوگئے تھے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…