جمعرات‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2025 

کراچی کی حالت دیکھ کر دل خون کے آنسو رو رہا ہے، سیاسی جماعتوں کے پاس طاقت نہیں ہوتی تو اختیارات مانگتی ہیں، جب اختیارات مل جاتے ہیں تو ذمہ داری بھول جاتی ہیں،عدالت کارکردگی کر شدید برہم

datetime 24  جولائی  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی(این این آئی)سندھ ہائی کورٹ میں کراچی میں گندگی غلاظت اور کچرا نہ اٹھانے کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران جسٹس خادم حسین شیخ نے ریمارکس دیئے کہ کراچی کی حالت دیکھ کر دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔سندھ ہائی کورٹ میں کراچی میں گندگی غلاظت اور کچرا نہ اٹھانے کے

خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔دورانِ سماعت عدالتِ عالیہ کے جج جسٹس خادم حسین کچرا، گندگی اور غلاظت کی پیش کردہ تصاویر دیکھ کر رنجیدہ ہو گئے۔جسٹس خادم حسین شیخ نے سیکریٹری بلدیات سندھ کو فورا طلب کر لیااور کہا کہ کراچی کی حالت دیکھ کر دل خون کے آنسو رو رہا ہے، کیا کسی بڑے شہر کے ساتھ ایسا کیا جاتا ہے؟۔انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے پاس طاقت نہیں ہوتی تو اختیارات مانگتی ہیں، جب اختیارات مل جاتے ہیں تو اپنی پاور اور ذمے داری بھول جاتی ہیں۔حکومتِ سندھ کے وکیل نے کہا کہ کراچی سے کچرا اٹھانا ڈی ایم سیز اور کے ایم سی کی ذمے داری ہے۔جسٹس خادم حسین شیخ نے کہا کہ کے ایم سی والے تو آئے روز کہتے رہتے ہیں کہ ہمیں فنڈ نہیں ملتے، وہ تو کہتے ہیں کہ ہمیں کام کرنے نہیں دیا جاتا ہے۔انہوں نے سندھ گورنمنٹ کے وکیل سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ جب آپ کے ایم سی کو فنڈ نہیں دیتیتو خود کیوں کام نہیں کرتے؟۔جسٹس خادم حسین شیخ نے کہا کہ کراچی میں گندگی اور کچرا ایک دن وبائی صورتِ حال اختیار کر جائے گا، کیا کسی شہر کی ایسی حالت ہوتی ہے؟۔درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جب کچرا چھتوں کو چھوتا ہے تو تب ایک دو ٹرک اٹھا لیے جاتے ہیں۔جسٹس ارشد حسین خان نے کہا کہ عدالتی نوٹسز کے باوجود کسی نے پیش ہو کر وضاحت دینے کی زحمت نہیں کی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ہم انسان ہی نہیں ہیں


یہ ایک حیران کن کہانی ہے‘ فرحانہ اکرم اور ہارون…

رانگ ٹرن

رانگ ٹرن کی پہلی فلم 2003ء میں آئی اور اس نے پوری…

تیسرے درویش کا قصہ

تیسرا درویش سیدھا ہوا‘ کھنگار کر گلا صاف کیا…

دجال آ چکا ہے

نیولی چیمبرلین (Neville Chamberlain) سرونسٹن چرچل سے قبل…

ایک ہی راستہ بچا ہے

جنرل احسان الحق 2003ء میں ڈی جی آئی ایس آئی تھے‘…

دوسرے درویش کا قصہ

دوسرا درویش سیدھا ہوا‘ کمرے میں موجود لوگوں…

اسی طرح

بھارت میں من موہن سنگھ کو حادثاتی وزیراعظم کہا…

ریکوڈک میں ایک دن

بلوچی زبان میں ریک ریتلی مٹی کو کہتے ہیں اور ڈک…

خود کو کبھی سیلف میڈنہ کہیں

’’اس کی وجہ تکبر ہے‘ ہر کام یاب انسان اپنی کام…

20 جنوری کے بعد

کل صاحب کے ساتھ طویل عرصے بعد ملاقات ہوئی‘ صاحب…

افغانستان کے حالات

آپ اگر ہزار سال پیچھے چلے جائیں تو سنٹرل ایشیا…