ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

میں یہ بات نہیں مان سکتا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کا دین سے کوئی تعلق نہیں،مفتی منیب کی بات پر فواد چوہدری بھی چپ نہ رہ سکے

datetime 23  جولائی  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر فواد چودھری نے کہا ہے کہ میں یہ بات نہیں مان سکتا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کا دین سے کوئی تعلق نہیں، علمائے کرام سے کہا ہے کسی وقت بیٹھ کر معاملے کو سمجھیں۔ایک انٹرویومیں انہوں نے کہا کہ مفتی منیب الرحمان غصے میں ہوں یا نہیں، ہمارے بزرگ ہیں۔سوشل میڈیا کی بندش کے معاملے پر بات کرتے ہوئے فواد چودھری نے کہا کہ ہر چیز کو بند کرکے دنیا تو نہیں چل سکتی،

جب میں نے ریگولیشن کی بات کی تو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز تقاریر ہوتی ہیں اور ہمارے ادارے منہ دیکھتے رہتے ہیں،ہم نے اداروں کو بہتر کرنا ہے، چھ وزیروں کے خلاف فتویٰ آیا لیکن سائبر کرائم ونگ ایکشن نہیں لے سکا۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ہمیں سپریم کورٹ کا بڑا احترام ہے لیکن اس کی آبزرویشن کو غلط انداز میں پیش کیا گیا۔ یوٹیوب، فیس بک اور گوگل ایک نئی دنیا ہے۔ اگر ان کو ختم کر دیں گے تو لوگوں کا بڑا نقصان ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں بچوں کو جنسی ہراساں کرنے اور نفرت انگیز تقاریر کو ختم کرنا چاہیے۔ اس سلسلے میں ہمیں ایف آئی اے کو مضبوط بنانا ہوگا۔ جوڈیشل، پولیس اور الیکشن اصلاحات پر ہمیں زور لگانا چاہیے۔ الیکشن کمیشن تگڑا ہونا چاہیے جس پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔ ہمیں بھی امریکا کی طرح ایک ادارہ بنانا چاہیے۔  فواد چودھری نے کہا ہے کہ میں یہ بات نہیں مان سکتا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کا دین سے کوئی تعلق نہیں، علمائے کرام سے کہا ہے کسی وقت بیٹھ کر معاملے کو سمجھیں۔ایک انٹرویومیں انہوں نے کہا کہ مفتی منیب الرحمان غصے میں ہوں یا نہیں، ہمارے بزرگ ہیں۔سوشل میڈیا کی بندش کے معاملے پر بات کرتے ہوئے فواد چودھری نے کہا کہ ہر چیز کو بند کرکے دنیا تو نہیں چل سکتی، جب میں نے ریگولیشن کی بات کی تو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز تقاریر ہوتی ہیں اور ہمارے ادارے منہ دیکھتے رہتے ہیں

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…