بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

پی آئی اے میں کل طیاروں کی تعداد 34 قابل مرمت اور ناقابل مرمت طیارے کتنے ہیں؟ تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش

datetime 23  جولائی  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)قومی اسمبلی اجلاس میں پی آئی اے کے قابل اور ناقابل استعمال جہازوں کی تعداد ایوان میں پیش کر دی گئیں جس کے مطابق پی آئی اے میں کل طیاروں کی تعداد 34 ہے،اس وقت قابل مرمت طیاروں کی تعداد 31 جبکہ 3 ناقابل مرمت طیارے ہیں۔ جمعرات کو وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان نے تحریری جواب میں بتایاکہ پی آئی اے میں کل طیاروں کی تعداد 34 ہے۔

اس وقت قابل مرمت طیاروں کی تعداد 31 جبکہ 3 ناقابل مرمت طیارے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کل طیاروں میں بی 777 کی تعداد 12، اے 320 کی تعداد 12، اے ٹی آر-72 کی تعداد 5 جبکہ اے ٹی آر-42 کی تعداد 5 ہے۔ بتایاگیاکہ قابل مرمت طیاروں میں بی 777 کی تعداد 12، اے 320 کی تعداد 12، اے ٹی آر-72 کی تعداد 4 جبکہ اے ٹی آر-42 کی تعداد 3 ہے،نا قابل مرمت طیاروں میں بی 777 اور اے 320 میں کوئی شامل نہیں ،ناقابل مرمت طیاروں میں اے ٹی آر-72 کی تعداد 1 جبکہ اے ٹی آر-42 کی تعداد 2 ہے۔پارلیمانی سیکرٹری سول ایوی ایشن کیپٹن ریٹائرجمیل نے بتایاکہ پی آئی اے کی تباہی کی زمہ دار سابقہ حکومتیں ہیں، ہم نے ادارے تباہ نہیں کئے ۔پارلیمانی سیکرٹری نے کہا وفاقی وزیر اور ڈی جی ایوی ایشن کے بیانات کی وضاحت وہ خود دیں گے۔ کیپٹن (ر )جمیل نے بتایاکہ پائلٹس کے معاملے پر تازہ سوال جمع کرا دیں وزیر خود آکر جواب دیں گے،سول ایوی ایشن کے امتحانی سسٹم کو کہیں اور سے چھیڑا جاتا تھا ، ہم نے اس معاملے پر نظر رکھی ہوئی ہے ۔پارلیمانی سیکرٹری نے کہاکہ این سی او سی کی اجازت سے اندرون ملک اہم پروازیں کھول دی ہیں،سمتبر میں سکھر ایئر پورٹ پر پروازوں کی آمدورفت شروع ہو جائے گی ۔ حنا ربانی کھر نے کہاکہ یہ ان کے لئے مزاق اور سیاسی پوائنٹ سکورننگ ہو گی ادارواں کی تباہی ہمارے لئے سنجیدہ معاملہ ہے، ناز بلوچ نے کہاکہ سی اے اے سالانہ بنیادوں پر لائسنس کی تجدید کرتا ہے،پی آئی اے خود سال میں دو مرتبہ لائسنس کی تصدیق کرتا ہے،پائلٹس کے لائسنس کیسے پوشیدہ رہ سکتے ہیں۔ پارلیمانی سیکرٹری برائے ایوی ایشن جمیل احمد نے کہاکہ سرور میں نئے پاسورڈ اور آئی پی ایڈریس میں مداخلت کی کوشش کی گئی ،انہوںنے کہاکہ پہلے ایسا بھی ہوا کہ پائلٹ جہاز بھی اڑا رہا ہوتا تھااور اسی دوران امتحان میں بھی موجود ہوتا تھا،ایسے اقدامات کئے ہیں دوبارہ ایسا نہیں ہو سکے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…