جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

چیئرمین نیب کے حراست، ریفرنس کے اندراج، پلی بارگین کے اختیارات واپس لئے جائیں، اختیارات کسے سونپنے کا مشورہ دیدیا گیا

datetime 22  جولائی  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (این این آئی) سابق چیئر مین سینٹ سینیٹر رضا ربانی نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے ذریعے پاکستان میں ضمانت کے اختیار میں نئے باب اور تاریخ کا جنم لیا ہے،کورٹس بھی اس فیصلے کو مد نظر رکھتے ضمانت کے کیسز کو اس کی روشنی میں ڈیل کریں گے،احتساب کا عمل بہت ضروری ہے،سینیٹ نے سستے اور فوری انصاف کی سفارشات تیار کیں ان پر عملدرآمد نہیں ہوا،پارلیمنٹ کو تاریخی کردار

ادا کرنا ہو گا،سپریم کورٹ کے فیصلے کو مد نظر رکھتے پارلیمنٹ کو نئے احتساب قانون اور احتساب کی نئی باڈی کا تعین کرنا ہو گا،چیئرمین نیب کے پاس حراست، ریفرنس کے اندارج، پلی بارگین کے جو اختیارات ہیں،وہ اختیار چیئرمین نیب سے لیکر کمیشن کو دئیے جائیں، سب کیلئے ایک قانون ہونا چاہیے، نیا احتساب قانون بنانے کیلئے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے،فیصلے میں کی گئی باتوں کے بعد پارلیمان نے تاریخی کرادر ادا نہیں کیا،تو پارلیمان تاریخ کی مجرم ہو گی۔بدھ کو سینٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے سابق چیئر مین سینٹ سینیٹر رضا ربانی نے کہاکہ جو فیصلہ سپریم کورٹ نے دیا ہے، وہ تاریخی فیصلہ ہے،اس فیصلے کے ذریعے پاکستان میں ضمانت کے اختیار میں نئے باب اور تاریخ کا جنم لیا ہے،دیگر کورٹس بھی اس فیصلے کو مد نظر رکھتے ضمانت کے کیسز کو اس کی روشنی میں ڈیل کریں گے،احتساب کا عمل بہت ضروری ہے،یہ کہنا کہ پارلیمان احتساب سے بھاگتے ہیں تاریخی اور عملی طور پر درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ گاڑی پٹری سے تب اتری جب پاکستان میں قانون کے پانچ معیار ہونے لگے۔ انہوں نے کہاکہ یہاں قانون مختلف طریقے سے لاگو ہو گا،اگر اپ کا تعلق حکمران اشرافیہ سے ہے،اگر آپ اشرفیہ سے مدد گار ہیں تو قانون کا مختلف انداز سے اطلاق ہو گا،امیر کیلئے انصاف کے طریقے اور تقاضے مختلف ہیں،اگر کوئی عام شہری ہے تو قانون کا اطلاق مختلف انداز سے ہو گا۔ انہوں نے کہاکہ

اگر آپ کا تعلق عدلیہ، آرمڈ فورسز، سول سروس سے ہے تو اپ کے ساتھی ہی آپ کا ٹرائل کریں گے،اگر اپ پارلیمنٹرین یا سیاست دان ہیں تو اپ کا ٹرائل خصوصی عدالت میں ہو گا،اگر آپ عام شہری ہیں تو آپ عدالتوں کے رحم و کرم پر ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پارلیمان کا تاریخی فرض ہے کہ وہ سستے انصاف کے لیے جدوجہد کرے۔ انہوں نے کہاکہ سینیٹ نے سستے اور فوری انصاف کی سفارشات تیار کیں تاہم ان پر عملدرآمد نہیں ہوا،پارلیمنٹ کو

تاریخی کردار ادا کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو مد نظر رکھتے پارلیمنٹ کو نئے احتساب قانون اور احتساب کی نئی باڈی کا تعین کرنا ہو گا،احتساب کے حوالے وفاقی احستاب کمیشن کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ وفاقی احتساب کمیشن کے تحت تمام افراد (چاہتے عدلیہ، سول بیروکرسی، ملٹری یا سیاستدان) ان کیلئے ایک قانون ہو،جو کرپشن میں ملوث ہوں ان کے لیے ایک قانون اور ایک طریقہ کار ہو،اس کمیشن میں تمام شراکت

دار موجود ہوں۔ انہوں نے کہاکہ چیئرمین نیب کے پاس حراست، ریفرنس کے اندارج، پلی بارگین کے جو اختیارات ہیں،وہ اختیار چیئرمین نیب سے لیکر کمیشن کو دئیے جائیں تاکہ کوئی مقدس گائے نہ ہو۔ انہوں نے کہاکہ یا پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے، جن میں تمام سیاسی جماعتیں موجود ہوں،مشترکہ پارلیمانی اجلاس سے کمیٹی تشکیل دی جائے،کمیٹی کو ٹائم فریم دیا جائے کہ اس کے اندر نیا احتساب قانون بنانا ہو گا۔ انہوں نے کہاکہ فیصلے میں کی گئی باتوں کے بعد پارلیمان نے تاریخی کرادر ادا نہیں کیا،تو پارلیمان تاریخ کی مجرم ہو گی۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…