بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

لڑکا بن کر لڑکی سے شادی کرنے والا آکاش کرونا سے متاثر جوڑا ٹیکسلا چھوڑ کر کہاں چلا گیا؟عدالت میں اہم انکشافات

datetime 21  جولائی  2020 |

راولپنڈی(این این آئی)راولپنڈی ہائی کورٹ بینچ نے لڑکا بن کر لڑکی سے شادی کیس میں فریقین اور علی آکاش کو کورونا ٹیسٹ رپورٹ کے ہمراہ پیش کرنے کا حکم دیدیا ۔منگل کو کیس کی سماعت ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کے جسٹس صداقت علی خان نے کی۔

دور ان سماعت عاصمہ بی بی عرف علی آکاش عدالت پیش نہ ہوئی،عدالت نے علی آکاش کی عدم حاضری پر شدید برہمی کا اظہار کیا ۔ وکیل نے کہاکہ کورونا مشتبہ مریض ہے عدالت حاضر نہیں ہو سکتا۔ عدالت نے کہاکہ کورونا کی رپورٹ فوری طور پر عدالت پیش کی جائے۔ ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے چوبیس جولائی کو فریقین کو پیش کرنے کا حکم دیا ۔ عدالت نے پراسیکیوٹر کی جانب سے علی آکاش کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی استدعا مسترد کر دی ۔آئندہ سماعت پر علی آکاش کو کورونا ٹیسٹ رپورٹ کے ہمراہ پیش کرنے کا حکم دیدیا ۔ پراسیکیوٹر نے کہاکہ جس دن عدالت پیش ہوئے اسی دن ٹیسٹ کروایا گیا کورونا کیسے ہو سکتا ہے۔ ایس ایچ او ٹیکسلا نے کہاکہ علی آکاش اور نیہا علی ٹیکسلا میں موجود نہیں گھروں پر تالے لگے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ تبدیلی جنس کے بعد شادی کرنے والا جوڑا لاہور میں ہے۔ ایس ایچ او ٹیکسلا کی عدالت سے استدعا کی گئی کہ فریقین کے وکلاء کو پابند کیا جائے کہ وہ اپنے موکلوں کو عدالت پیش کریں۔ کیس کی سماعت 24 جولائی تک ملتوی کر دی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…