بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

دودھ لینے جانے والا 12 سالہ بچہ کتوں کی خوراک بن گیا، انتہائی افسوسناک واقعہ

datetime 21  جولائی  2020 |

چناری(آن لائن)چناری کے نواحی علاقے جسکول میں بھوکے کتوں نے بارہ سالہ بچے پر حملہ کر کے اسے نوچ لیا ،ساتویں جماعت کے طالب علم کا نصف سے زائد گوشت کتوں نے اپنی خوارک بناتے ہوئے کھا لیا ،بچے کی نماز جنازہ آبائی گائوں میں ادا ،ہر طرف رقتآز مناظر اور خوف وہراس پھیل گیا ۔تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز چناری کے نواحی علاقے جسکول کے رہائشی بارہ سالہ بچے کو اس کے گھر والوں نے

دوھ لینے کے لیے بھیجا تو گلی کے مقام پر اس پر نصف درجن کے قریب کتوں نے بھونکنا شروع کر دیا بچے نے کتوں سے بچنے کے لیے بھاگنا شروع کیا تو وہ اونچائی سے نیچے گر گیا اور اس کا سر پھٹ گیا کتوں نے گرے ہوئے بچے کا نصف سے زائد گوشت کھا لیا بعض مقامی لوگوں کے مطابق بچے کے ورثاء نے کتوں کی خواراک بننے والے بچے کی ڈیڈ باڈی ریکور کرنے کے بعد اس کا نماز جناز پڑھانے کے بعد مقامی قبرستان میں اسکی تدفین کر دی ہے بچے کی موت پر سوشل میڈیا پر مختلف قسم کی چہ میگوئیاں گردش کر رہی ہیں آخری اطلاعات کے موصول ہونے تک اس واقعہ کی کسی نے بھی پولیس میں رپورٹ درج نہیں کروائی صحافیوں نے بھی بچے کے ورثاء سے رابطہ کرنے اور ان کا موقف جاننے کی کوشش کی لیکن جسکول اور گردونواح میں نیٹ ورک نہ ہونے کے باعث کسی سے بھی رابطہ ممکن نہیں ہو پایا عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ پولیس اس واقعہ کی تحقیقات کرے کہ واقعی بچہ کتوں نے کھایا ہے یا اس کے بیک پر کوئی اور معاملہ ہے۔ چناری کے نواحی علاقے جسکول میں بھوکے کتوں نے بارہ سالہ بچے پر حملہ کر کے اسے نوچ لیا ،ساتویں جماعت کے طالب علم کا نصف سے زائد گوشت کتوں نے اپنی خوارک بناتے ہوئے کھا لیا ،بچے کی نماز جنازہ آبائی گائوں میں ادا ،ہر طرف رقتآز مناظر اور خوف وہراس پھیل گیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…