بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

قائد اعظمؒ سے زیادہ روادار کون تھا؟ صحافی نے جب عمران خان سے کہا ،پاکستان کا تجربہ تو ناکام ہی ثابت ہوا تو کپتان نے صحافی کو کیا جواب دیا تھا ؟معروف صحافی کا تہلکہ خیز انکشاف ‎

datetime 20  جولائی  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )سینئر کالم نگار ہارون الرشید اپنے کالم ’’ناقابل علاج ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔۔تحریکِ پاکستان کے ممتاز ترین ماہرین میں سے ایک منیر احمد منیر کا مقالہ مل سکے تو چھاپ دوں۔ ٹھوس دلائل کے ساتھ انہوں نے ثابت کیا ہے کہ قائد اعظمؒ کا یہ خطاب میثاق کے مطابق ہے۔ ریاست وجود میں آ جائے تو اس کے شہری ایک برابر ہوتے ہیں اور مذہبی معاملات میں یکسر آزاد۔

ایک چھوٹی سی اقلیت اس تقریر کی روشنی میں قائد اعظمؒ کو سیکولر ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ حیرت انگیز یہ کہ پچاس برس پر پھیلی عملی زندگی میں، سیکولر کا لفظ قائد اعظمؒ نے ایک بار بھی استعمال نہیں کیا۔ خود اس اصطلاح کے خالق کا کہنا یہ ہے کہ کوئی شخص سیکولر ہو ہی نہیں سکتا، جب تک کہ وہ وجودِ باری تعالیٰ کا انکار نہ کرے۔ رواداری؟ ان کے پورے عصر،بلکہ اڑھائی تین سو سال کی آئینی سیاست میں، قائد اعظمؒ سے زیادہ روادار کون تھا؟ ان کی پہلی کابینہ میں دو غیر مسلم شامل تھے۔ وہ کبھی کسی فرقے سے وابستہ تھے اور نہ عمر بھر کسی دوسرے مذہب کے خلاف بات کی۔ قائد اعظمؒ کا اختلاف آل انڈیا کانگریس سے تھا۔ انہیں ہندو مسلم اتحاد کا سفیر کہا جاتا۔ کانگریس کی تاریخ میں وہ واحد شخصیت ہیں جن کے نام پر ایک عمارت ممبئی میں بنائی گئی، جناح ہال۔ ان کی ایک ہی ترجیح تھی: مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ۔ متحدہ ہندوستان میں اگر یہ ممکن ہوتا تو یقیناً وہ اس سے اتفاق کر لیتے۔ 1946ء میں تجویز کردہ اے بی سی فارمولہ آپ نے مان لیا تھا، جس میں صوبوں کے اختیارات وسیع تھے۔ دس برس کے بعد الگ ہونے کا اختیار بھی۔ مسلم لیگ نہیں، اس فارمولے کو کانگریس نے مسترد کیا۔ جب وہ ایسا کر چکی تو اس عظیم النظیر مفکر نے بساط الٹ دی۔ پورے قد سے وہ کھڑے ہوئے اور پورے عزم سے اعلان کیا کہ پاکستان سے کم اب کوئی چیز قابل قبول نہیں۔ مرحوم مجید نظامی کے

اخبار سے تعلق رکھنے والے ایک تجربہ کار اخبار نویس نے مایوسی کے عالم میں عمران خان سے کہا: پاکستان کا تجربہ تو ناکام ہی ثابت ہوا۔ کپتان نے پلٹ کر دیکھا اور یہ کہا:پاکستان اگر وجود میں نہ آتا تو برصغیر کبھی نہ ختم ہونے والی خانہ جنگی کی زد میں رہتا۔ نظریۂ پاکستان کے حق میں دلائل پیش کرنے کی اب کوئی ضرورت نہیں۔ کشمیر، الٰہ آباد اور سال گزشتہ کے آخر میں دلّی کے مسلمانوں پر بی جے پی کے

حملوں نے سب پہلو روشن کر دیئے ہیں۔ اس قدر واضح کہ اندھوں، احمقوں اور تعصبات کے مارے لوگوں کے سوا، ہر شخص دل کی گہرائیوں سے پاکستان کے جواز کا قائل ہو چکا۔ بنی آدم اپنے مر جانے والوں کو دفن کرتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ بندریا کا بچہ مر جائے تو اس کی ممتا کئی دن اسے اٹھائے پھرتی ہے۔ بندریا کو کون سمجھائے؟ انہیں کون سمجھائے، مغربی تہذیب کی یلغار سے جواحساسِ کمتری کے ناقابلِ علاج مریض ہو گئے، باقی باقی!

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…