بدھ‬‮ ، 04 فروری‬‮ 2026 

بدترین بھارتی مظالم بھی پاکستان کیساتھ کشمیریوں کی محبت کو مٹانہیں سکے کنٹرول لائن کے دونوں اطراف اور دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں نے یوم الحاق پاکستان منایا

datetime 19  جولائی  2020 |

سرینگر (این این آئی)کنٹرول لائن کے دونوں اطراف اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری  یوم الحاق پاکستان اس تجدید عیدکے ساتھ منایا کہ وہ بھارتی قبضے سے آزادی اور جموں وکشمیر کے پاکستان میں مکمل انضمام تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق 19جولائی 1947ء کو سرینگر کے علاقے آبی گزر میں سردار محمد ابراہیم خان کی رہائش گاہ پر آل جموں وکشمیر

مسلم کانفرنس کے اجلاس کے دوران کشمیریوں کی حقیقی قیادت نے متفقہ طور پر ’’الحاق پاکستان ‘‘ کی قرار داد منظور کی تھی۔ اس تاریخی قرار داد میں جموں وکشمیر کی مذہبی ، جغرافیائی، تہذیبی اور معاشی حوالے سے پاکستان کے ساتھ قربت اور لاکھوں کشمیریوں کیامنگوں کے پیش نظرپاکستان کے ساتھ الحاق کا مطالبہ کیا گیا۔پاکستان کے ساتھ الحاق کی یہ پیش رفت برطانوی ہند کالونی کی تقسیم کے منصوبے کے تحت 14اور 15اگست کو پاکستان اور بھارت کی دو خود مختار ریاستوں کی تشکیل سے قریباً ایک ماہ قبل سامنے آئی ۔ تقسیم ہند کے منصوبے کے تحت تمام شاہی ریاستوں کو اس بات کی آزادی دی گئی تھی کہ وہ دونو آزاد ریاستوں میں سے اپنی مرضی سے کسی ایک میں شامل ہوجائیں۔19جولائی 1947کا کشمیریوں کافیصلہ اس بات کا گواہ ہے کہ کشمیری عوام نے اپنا مستقل پاکستان کے ساتھ وابستہ کردیاتھا۔ انہوں نے اپنے سیاسی ، مذہبی ، معاشرتی ، ثقافتی اور معاشی حقوق کے تحفظ کیلئے پاکستان میں شمولیت کا فیصلہ کیاکیونکہ وہ ان ہندوئوں کے ماتحت اپنی قسمت سے بخوبی واقف تھے جو جموںوکشمیر کے مسلمانوںکے لیے گہری عداوت رکھتے ہیں۔دریں اثنا کشمیر میڈیا سروس کے شعبہ تحقیق کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیاہے کہ جموںوکشمیر کی بھارتی قبضے سے آزادی اور پاکستان کے ساتھ اسکے الحاق کے لیے گزشتہ سات دہائیوںکے دوران ساڑھے چار لاکھ سے زائد کشمیریوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ بدترین بھارتی جبر و استبداد پاکستان کے ساتھ کشمیریوں کی محبت کو مٹانہیں سکاہے۔ کے ایم ایس رپورٹ میں کہاگیا کہ بھارتی فوجیوں نے

ریاستی دہشت گردی کی مسلسل کارروائیوں کے دوران جنوری 1989سے اب تک 95ہزار630سے زائد کشمیریوں کو شہید کیا جن میں سے 7ہزار141 کو دوران حراست شہید کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ فوجیوںنے اس عرصے کے دوران8ہزار سے زائد کشمیریوں کو دوران حراست لاپتہ کیا ، 11ہزار 2سو سے زائد خواتین کی آبروریزی کی اورکم از کم ایک لاکھ 10ہزار334مکانات تبا ہ کیے جبکہ اس وقت بھی مقبوضہ کشمیر اور بھارت کی جیلوں میں ہزاروں کشمیری نظربند ہیں ۔ رپورٹ میں تاہم کہا گیا کہ بھارت اپنے بہیمانہ مظالم کے ذریعے کشمیریوں کواپنی حق پر مبنی جدجہد ترک کرنے پر مجبور نہیں کرسکااور وہ عظیم مقصد کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھنے کیلئے پرعزم ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…