بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

بدترین بھارتی مظالم بھی پاکستان کیساتھ کشمیریوں کی محبت کو مٹانہیں سکے کنٹرول لائن کے دونوں اطراف اور دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں نے یوم الحاق پاکستان منایا

datetime 19  جولائی  2020 |

سرینگر (این این آئی)کنٹرول لائن کے دونوں اطراف اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری  یوم الحاق پاکستان اس تجدید عیدکے ساتھ منایا کہ وہ بھارتی قبضے سے آزادی اور جموں وکشمیر کے پاکستان میں مکمل انضمام تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق 19جولائی 1947ء کو سرینگر کے علاقے آبی گزر میں سردار محمد ابراہیم خان کی رہائش گاہ پر آل جموں وکشمیر

مسلم کانفرنس کے اجلاس کے دوران کشمیریوں کی حقیقی قیادت نے متفقہ طور پر ’’الحاق پاکستان ‘‘ کی قرار داد منظور کی تھی۔ اس تاریخی قرار داد میں جموں وکشمیر کی مذہبی ، جغرافیائی، تہذیبی اور معاشی حوالے سے پاکستان کے ساتھ قربت اور لاکھوں کشمیریوں کیامنگوں کے پیش نظرپاکستان کے ساتھ الحاق کا مطالبہ کیا گیا۔پاکستان کے ساتھ الحاق کی یہ پیش رفت برطانوی ہند کالونی کی تقسیم کے منصوبے کے تحت 14اور 15اگست کو پاکستان اور بھارت کی دو خود مختار ریاستوں کی تشکیل سے قریباً ایک ماہ قبل سامنے آئی ۔ تقسیم ہند کے منصوبے کے تحت تمام شاہی ریاستوں کو اس بات کی آزادی دی گئی تھی کہ وہ دونو آزاد ریاستوں میں سے اپنی مرضی سے کسی ایک میں شامل ہوجائیں۔19جولائی 1947کا کشمیریوں کافیصلہ اس بات کا گواہ ہے کہ کشمیری عوام نے اپنا مستقل پاکستان کے ساتھ وابستہ کردیاتھا۔ انہوں نے اپنے سیاسی ، مذہبی ، معاشرتی ، ثقافتی اور معاشی حقوق کے تحفظ کیلئے پاکستان میں شمولیت کا فیصلہ کیاکیونکہ وہ ان ہندوئوں کے ماتحت اپنی قسمت سے بخوبی واقف تھے جو جموںوکشمیر کے مسلمانوںکے لیے گہری عداوت رکھتے ہیں۔دریں اثنا کشمیر میڈیا سروس کے شعبہ تحقیق کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیاہے کہ جموںوکشمیر کی بھارتی قبضے سے آزادی اور پاکستان کے ساتھ اسکے الحاق کے لیے گزشتہ سات دہائیوںکے دوران ساڑھے چار لاکھ سے زائد کشمیریوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ بدترین بھارتی جبر و استبداد پاکستان کے ساتھ کشمیریوں کی محبت کو مٹانہیں سکاہے۔ کے ایم ایس رپورٹ میں کہاگیا کہ بھارتی فوجیوں نے

ریاستی دہشت گردی کی مسلسل کارروائیوں کے دوران جنوری 1989سے اب تک 95ہزار630سے زائد کشمیریوں کو شہید کیا جن میں سے 7ہزار141 کو دوران حراست شہید کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ فوجیوںنے اس عرصے کے دوران8ہزار سے زائد کشمیریوں کو دوران حراست لاپتہ کیا ، 11ہزار 2سو سے زائد خواتین کی آبروریزی کی اورکم از کم ایک لاکھ 10ہزار334مکانات تبا ہ کیے جبکہ اس وقت بھی مقبوضہ کشمیر اور بھارت کی جیلوں میں ہزاروں کشمیری نظربند ہیں ۔ رپورٹ میں تاہم کہا گیا کہ بھارت اپنے بہیمانہ مظالم کے ذریعے کشمیریوں کواپنی حق پر مبنی جدجہد ترک کرنے پر مجبور نہیں کرسکااور وہ عظیم مقصد کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھنے کیلئے پرعزم ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…