بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

ایک ہفتے سے میرے نام سے اعلیٰ حکام کو جعلی فون کیے جا رہے ہیں، رضا ربانی کا انکشاف

datetime 18  جولائی  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)سابق چیئرمین سینیٹ، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما و سینیٹر میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ کچھ عرصے سے میرے نام سے مسلسل اعلیٰ حکام کو جعلی فون کیے جا رہے ہیں۔سینیٹ اجلاس میں سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے بتایا کہ 11 جولائی کو ایک گروہ نے ڈی سی سکھر کو فون کر کے کہا کہ ہم رضا ربانی کے اسٹاف ممبر ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ان لوگوں کی جانب سے کہا گیا کہ مختیارخان روڑھی کو کراچی بھیجیں، وہاں زمین کا مسئلہ ہے، ڈی سی سکھر نے مجھے فون کیا تو میں نے اس کی تردید کی۔رضا ربانی نے بتایا کہ کمشنر میر پور خاص نے فون کر کے بھی ایسی ہی بات کی، پھر ڈی سی میر پور خاص کا فون آیا اور انہوں نے بھی یہ بات کی۔انہوں نے کہا کہ میں نے ڈی جی ایف آئی اے کو خط لکھ کر اس حوالے سے کارروائی کرنے کے لیے کہا، تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی ایکشن نہیں ہوا ہے۔سابق چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ 13جولائی کو ڈی سی لاڑکانہ نے فون کر کے یہی بات بتائی، جبکہ 14 جولائی کو ڈی سی دادو کو بھی یہی فون گیا۔انہوں نے بتایا کہ ڈی سی ویسٹ کراچی اور اے سی کراچی صدر کو اسی نمبر سے فون کیا گیا، جبکہ 16 جولائی کو بھی ڈی سی نواب شاہ کا فون آیا کہ آپ نے فون کیا تھا۔میاں رضا ربانی نے کہاکہ یہ اطلاعات ڈی جی ایف آئی اے کو دی ہیں، روزانہ آفیشل کو فون کیے جا رہے ہیں لیکن ٹریس نہیں ہو رہا، حکومت نے ایکشن نہیں لینا تو مجھے کوئی مسئلہ نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…