بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

کلبھوشن باربارسفارتکاروں کوپکارتارہا،سفارتکاروں نے کلبھوشن سے بات ہی نہیں کرنی تھی تورسائی کیوں مانگی؟ شاہ محمود قریشی نے حقیقت کھول دی

datetime 16  جولائی  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمودقریشی نے کہا ہے کہ کلبھوشن کو قونصلر رسائی کی ضرورت کے مطابق تمام اقدامات اٹھائے ہیں،کلبھوشن باربارسفارتکاروں کوپکارتارہا، انہوں نے ایک نہ سنی اور رسائی کے بجائے راہ فرار اختیار کیا،کلبھوشن کہتارہامجھ سے بات کریں اورسفارتکارچلتے بنے،سفارتکاروں نے کلبھوشن سے بات ہی نہیں کرنی تھی تورسائی کیوں مانگی؟۔جمعرات کو ایک بیان میں

مخدوم شاہ محمودقریشی نے کہاکہ قونصلررسائی کی ضرورت کیمطابق تمام اقدامات اٹھائے۔شاہ محمودقریشی نے کہاکہ بھارتی سفارتکاروں نے کلبھوشن تک رسائی کے بجائے راہ_فراراختیارکیا۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی سفارتکارکوکلبھوشن تک قونصلررسائی دی،آج بھارت کے2سفارتکاروں کوقونصلررسائی دی گئی۔انہوں نے کہاکہ جوبات طے ہوئی تھی اس کے تحت قونصلررسائی دی۔ انہوں نے کہاکہ بھارت کی بدنیتی سامنے آگئی یہ قونصلررسائی ہی نہیں چاہتے تھے۔وزیرخارجہ نے کہاکہ کلبھوشن بھارتی سفارتکارکوپکارتارہااوروہ چلے گئے،کلبھوشن کہتارہامجھ سے بات کریں اورسفارتکارچلتے بنے۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ بھارتی سفارتکاروں کا رویہ حیران کن تھا،سفارتکاروں نے کلبھوشن سے بات ہی نہیں کرنی تھی تورسائی کیوں مانگی؟۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی سفارتکاروں کودرمیان میں شیشے پراعتراض تھاوہ بھی ہٹادیا۔وزیرخارجہ نے کہاکہ سفارتکاروں نے آڈیوویڈیو ریکارڈ پراعترض کیاوہ بھی نہیں کی،بھارتی سفارتکاروں کی تمام خواہشات پوری کیں پھربھی وہ چلے گئے۔  مخدوم شاہ محمودقریشی نے کہا ہے کہ کلبھوشن کو قونصلر رسائی کی ضرورت کے مطابق تمام اقدامات اٹھائے ہیں،کلبھوشن باربارسفارتکاروں کوپکارتارہا، انہوں نے ایک نہ سنی اور رسائی کے بجائے راہ فرار اختیار کیا،کلبھوشن کہتارہامجھ سے بات کریں اورسفارتکارچلتے بنے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…