بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

ڈی جی سول ایوی ایشن کے خط کے بعد وزیراعظم اور وزیر کے خلاف کارروائی،پاکستان کی دنیا بھر میں بدنامی ہوئی، اس کی بھی تو کسی کو سزا ملنی چاہئے؟ وزیراعظم سے استعفیٰ طلب

datetime 16  جولائی  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے وزیراعظم عمران خان سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈی جی سول ایوی ایشن کے خط کے بعد وزیراعظم اور وزیر کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے،وزیر نے جھوٹا بیان دے کر پارلیمان میں غلط بیانی کی تو اس کی سزا کسے ملنی چاہئے؟،بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے روزگار اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچا،

اس کا ذمہ دار کون ہے؟ ازالہ کون کرے گا؟،پاکستان کی دنیا بھر میں بدنامی ہوئی، اس کی بھی تو کسی کو سزا ملنی چاہئے؟۔جمعرات کو ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ عالمی سطح پر ملک کی بدنامی، قومی ادارے کو اربوں کا نقصان پہنچانے پر وزیراعظم مستعفی ہوں۔ انہوں نے کہاکہ ڈی جی سول ایوی ایشن کے خط کے بعد وزیراعظم اور وزیر کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔انہوں نے کہاکہ ملک کے اربوں روپے کے نقصان کا ذمہ دار وزیراعظم ہے،سرکاری خزانے کو نقصان پہنچا، یہ ہوتا ہے اختیارات کا ناجائز استعمال، یہ ہوتی ہے کرپشن۔ انہوں نے کہاکہ سی اے اے کے سربراہ کے خط نے وزیراعظم، کابینہ اور متعلقہ وزیر کو جھوٹا ثابت کردیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ دنیا سوال پوچھے گی کہ جس رپورٹ کی بنیاد پر یہ دعوی کیاگیا، اس کی ساکھ کیا ہے؟،دنیا سوال پوچھے گی کہ جب وزیراعظم کی اجازت سے وزیر ایوان میں بیان دے تو وہ کس پر اعتبار کرے؟،وزیر نے جھوٹا بیان دے کر پارلیمان میں غلط بیانی کی تو اس کی سزا کسے ملنی چاہئے؟،وزیراعظم اور ان کے وزیر کی حماقت سے پی آئی اے کو پہنچنے والے مالی نقصانات کا ازالہ کون کرے گا؟۔ انہوں نے کہاکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے روزگار اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچا، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ ازالہ کون کرے گا؟۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی دنیا بھر میں بدنامی ہوئی، اس کی بھی تو کسی کو سزا ملنی چاہئے؟،پائلٹ نہیں یہ حکومت، وزیراعظم اور وزیر جعلی ہیں،معیشت کریش کرنے والوں نے پی آئی اے اور اس کی ساکھ بھی کریش کردی۔انہوں نے کہاکہ ملک کا نام بدنام کرنے والے جعلی حکمرانوں نے قوم کا سکون چھینا، جعلساز حکمران سزا کے مستحق ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…