جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

ڈی جی سول ایوی ایشن کے خط کے بعد وزیراعظم اور وزیر کے خلاف کارروائی،پاکستان کی دنیا بھر میں بدنامی ہوئی، اس کی بھی تو کسی کو سزا ملنی چاہئے؟ وزیراعظم سے استعفیٰ طلب

datetime 16  جولائی  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے وزیراعظم عمران خان سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈی جی سول ایوی ایشن کے خط کے بعد وزیراعظم اور وزیر کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے،وزیر نے جھوٹا بیان دے کر پارلیمان میں غلط بیانی کی تو اس کی سزا کسے ملنی چاہئے؟،بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے روزگار اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچا،

اس کا ذمہ دار کون ہے؟ ازالہ کون کرے گا؟،پاکستان کی دنیا بھر میں بدنامی ہوئی، اس کی بھی تو کسی کو سزا ملنی چاہئے؟۔جمعرات کو ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ عالمی سطح پر ملک کی بدنامی، قومی ادارے کو اربوں کا نقصان پہنچانے پر وزیراعظم مستعفی ہوں۔ انہوں نے کہاکہ ڈی جی سول ایوی ایشن کے خط کے بعد وزیراعظم اور وزیر کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔انہوں نے کہاکہ ملک کے اربوں روپے کے نقصان کا ذمہ دار وزیراعظم ہے،سرکاری خزانے کو نقصان پہنچا، یہ ہوتا ہے اختیارات کا ناجائز استعمال، یہ ہوتی ہے کرپشن۔ انہوں نے کہاکہ سی اے اے کے سربراہ کے خط نے وزیراعظم، کابینہ اور متعلقہ وزیر کو جھوٹا ثابت کردیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ دنیا سوال پوچھے گی کہ جس رپورٹ کی بنیاد پر یہ دعوی کیاگیا، اس کی ساکھ کیا ہے؟،دنیا سوال پوچھے گی کہ جب وزیراعظم کی اجازت سے وزیر ایوان میں بیان دے تو وہ کس پر اعتبار کرے؟،وزیر نے جھوٹا بیان دے کر پارلیمان میں غلط بیانی کی تو اس کی سزا کسے ملنی چاہئے؟،وزیراعظم اور ان کے وزیر کی حماقت سے پی آئی اے کو پہنچنے والے مالی نقصانات کا ازالہ کون کرے گا؟۔ انہوں نے کہاکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے روزگار اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچا، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ ازالہ کون کرے گا؟۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی دنیا بھر میں بدنامی ہوئی، اس کی بھی تو کسی کو سزا ملنی چاہئے؟،پائلٹ نہیں یہ حکومت، وزیراعظم اور وزیر جعلی ہیں،معیشت کریش کرنے والوں نے پی آئی اے اور اس کی ساکھ بھی کریش کردی۔انہوں نے کہاکہ ملک کا نام بدنام کرنے والے جعلی حکمرانوں نے قوم کا سکون چھینا، جعلساز حکمران سزا کے مستحق ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…