آٹے اور چینی کا بحران،وزارتِ اعلیٰ کا بھاری بوجھ بزدار کے ناتواں کندھوں سے ہٹانے کا فیصلہ، 2 مضبوط امیدوار سامنے آ گئے

  بدھ‬‮ 15 جولائی‬‮ 2020  |  18:09

لاہور (آن لائن) پاکستان تحریک انصاف کی اعلیٰ سطحی قیادت نے آٹااورچینی کے فرضی بحران پیدا کیے جانے کے بعد بالآخرپنجاب کی وزارت اعلیٰ کابھاری بوجھ سردارعثمان بزدارکے ناتواں کندھوں سے ہٹانے کافیصلہ کرلیاہے اورملکی سیاست کے اہم ترین عہدے کیلیئے متبادل اورموزوں امیدواروں کے ناموں پر مشاورت شروع کردی ہے،وزیراعظم کواس بات پرقائل کر لیا گیا ہے کہعثمان بزدار کی جگہ متحرکاور فعال وزیراعلیٰ لا کر ہی اہم ترین صوبے میں پی ٹی آئی کی مستقبل کی سیاست کو بچایا جا سکتاہے،صوبائی وزیر خزانہ پنجاب وزارت اعلیٰ گیم سے آؤٹ،سید یاور عباس بخاری،عبدالعلیم خان اورمحسن لغاری کے ناموں میں


سے کسی ایک پراتفاق۔مستندذرائع کیمطابق تھنک ٹینک پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے عہدے کیلئے جن ناموں پربڑی سنجیدگی کے ساتھ غور و خوض کیاجارہاتھاان میں پی ٹی آئی کے مرکزی راہنماء زلفی بخاری کے بھائی رکن پنجاب اسمبلی سیدیاورعباس بخاری،عبدالعلیم خان،محسن لغاری،میاں اسلم اقبال اورمخدوم جواں بخت ہاشم کے نام شامل تھے تاہم صوبائی وزیر خزانہ مخدوم جواں بخت ہاشم کواس گیم سے آؤٹ کرکے ان کی جگہ محسن لغاری کوان جگہ شامل کیاگیااسی طرح صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال کوبھی عبدالعلیم خاں کے حق میں بھٹادیاگیا،باقی عبدالعلیم خاں،یاورعباس بخاری اورمحسن لغاری کے نام زیرغورہیں لیکن عبدالعلیم خاں اور یاور عباس بخاری پربعض اراکین پنجاب اسمبلی اورپنجاب سے منتخب ہونے والے اراکین قومی اسمبلی کے شدیداعتراضات کی وجہ سے تھنک ٹینک کوپنجاب کیلئے کوئی تیسرامتبادل امیدوارغور کیاجارہاہے،ذرائع کیمطابق جہاں تک وزارت اعلیٰ پنجاب کیلئے علیم خان جو روزاول سے ہی وزارت اعلیٰ کے امیدوار تھے کے نیب مقدمے میں گرفتاری کے بعد دوبارہ وزارت دیئے جانے کو ہی کافی قرار دیا جا رہا ہے اوران کو وزیر اعلیٰ بنانے کی صورت میں کسی بھی وقتنیب کا مقدمہ اور اس کافیصلہ پی ٹی آئی کو ہنجاب میں دیوارسے لگاسکتاہے،عبدالعلیم خان کی پارٹی پنجاب نے کسی حدتک مخالفت بھی کی ہے اور ان کے سب سے بڑے مخالف جہانگیر ترین تھے جنہیں ملکی سیاست سے فارغ کیے جانے کی باتیں کی جارہی ہیں،تاہم پنجاب پی ٹی آئی کے بعدحلقوں کاکہناہے کہ ان تمام تر خرابیوں کے باوجود عبدالعلیم خان سردار عثمان بزدار کے مقابلے میں قدرے بہترہیں جونہ صرف پی ٹی آئی کی پنجاب حکومت کویقینیطورپرفائدہ پہنچائیں گے بلکہ مسلم لیگ(ق)کو بھی مطمئن کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے،پی ٹی آئی کے تھنک ٹینک کیمطابق عثمان بزداربھی الیکشن سے چند ماہ قبل ن لیگ میں تھے اوران کاانتخاب غلط ثابت ہوا کیونکہ وہ پارٹی ویثرن سے واقف تھے نہ اسے آگے بڑھانے کے اہل،تواس بار ایسا وزیراعلیٰ لایا جائے جوتحریک انصاف کا نظریاتی کارکن ہو،تو یوں یہ قرعہ فال سردار یاور عباس بخاری کے نام نکل سکتاہے سید یاور عباس بخاری کا تعلقضلع اٹک سے ہے اور وہ اٹک میں سماجی کاموں کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں،ان کاشمارپاکستان تحریک انصاف کے فعال کارکنوں میں بھی سید یاور عباس بخاری گزشتہ عام انتخابات میں پی آئی کے ٹکٹ پر حلقہ پی ٹی ون اٹک ون سے انتخاب جیت کر رکن پنجاب اسمبلی55سالہ یاور عباس بخاری اس وقت صوبائی اسمبلی کی متعدد اہم کمیٹیوں کے رکن سمیت سب سے اہم کمیٹی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ٹوپنجاب کے چیئرمین بھی ہیں،جبکہ ذرائعکاکہناہے کہ مختلف اراکین پنجاب اسمبلی اور قومی اسمبلی میں سید یاور عباس بخاری کے نام پر اعتراضات اٹھالئے ہیں ان اراکین پنجاب اسمبلی کی جانب سے عائدکیاگیاسب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ سید یاور عباس بخاری وزیراعظم عمران خان کے قریبی دوست زلفی بخاری کے بھائی ہیں اورزلفی بخاری عمران خان کے اے ٹی ایم کے نام سے مشہورہیں،سیدیاورعباس بخاری پرایک یہ اعتراض یہ بھی سامنے آیاہے کہ زلفی بخاری سمیت سید یاورعباس بخاری اوور سیز ہیں اور محض حکومتی جھولا جھولنے کے لئے وقتی طورپرپاکستان آئے تھے۔


موضوعات: