بدھ‬‮ ، 04 فروری‬‮ 2026 

عوام کو پیٹرول نہیں مل رہا تھا تو ذخیرہ اندوزی کے پیچھے کون ہے؟ مافیاز کو عوام کو لوٹنے کا لائسنس مل گیا ، قلت کے باوجود فروخت میں اضافہ، ذخیرہ اندوزی کا انکشاف

datetime 11  جولائی  2020 |

اسلام آباد (آن لائن)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت مافیاز جبکہ مافیاز حکومت کی مدد سے چل رہی ہیں۔اپنے ایک بیان میں انہوں نے پیٹرول بحران انکوائری کمیٹی کی تحقیقات متعین مدت میں مکمل نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک مرتبہ پھر ثابت ہوا کہ

چینی کی طرح پیٹرول کے مجرم پکڑنے میں حکومت ہے نہ ہی اس میں جرات واہلیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرول بحران پر حکومتی رویے نے چینی اسکینڈل کی یاد تازہ کردی، موجودہ حکومت مافیازاور مافیاز حکومت کی مدد سے چل رہی ہیں۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پیٹرول بحران پر انکوائری کمیٹی کا 15 روز میں رپورٹ جمع نہ کرانا ‘دال میں کچھ کالا ہونے کا اشارہ ہے۔اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ اس سوال کا جواب نہیں آیا کہ جب عوام کو پیٹرول نہیں مل رہا تھا تو ذخیرہ اندوزی کون کررہا تھا؟ جبکہ جون کے مہینے میں قلت کے دوران پیٹرول کی فروخت زیادہ کیوں ہوئی؟ یہ پراسرار معمہ بھی حل نہیں ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن اور تیل کی قلت کے باوجود فروخت اتنی زیادہ کیوں سامنے آئی؟ اس سوال کا جواب اصل کہانی بتارہا ہے، ساتھ ہی وہ بولے کہ یہ امر حیران کن ہے کہ مئی کے مہینے میں فروخت 6 لاکھ 35 ہزار ٹن کیوں سامنے آئی؟صدر مسلم لیگ (ن) نے یہ سوال بھی کہا کہ مزید حیرت انگیز یہ ہے کہ جون میں پیٹرول کی کھپت 7 لاکھ25 ہزار ٹن بتائی جارہی ہے تو یہ کیسے ہوا؟انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے باعث طلب میں کمی، قلت کے باوجود فروخت میں اتنا اضافہ مطلب صرف ذخیرہ اندوزی ہے، حکومتی ملی بھگت سے پیٹرول کے ذریعے قوم سے اربوں لوٹ لیے گئے۔شہباز شریف کے مطابق موجودہ دور میں مافیاز کو عوام کو لوٹنے کا لائسنس دے دیا گیا ہے، ہر شخص محسوس کررہا ہے کہ ملک میں حکومتی عمل داری نام کی کوئی چیزموجود نہیں ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…