مشرقی بنگال سے لے کر مغربی پنجاب تک ، ممبئی سے لے کر تبت تک چین بھارت کے تمام جہاز الیکٹرومیگنیٹک سپکٹرم کی مدد سےجام کر کے تباہ کر سکتا ہے ، سینئر تجزیہ کار کا حیرت انگیز انکشاف

  منگل‬‮ 7 جولائی‬‮ 2020  |  20:37

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)چین اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی سے آنے والے دنوں میں جنگ کے امکانات بڑھ چکے ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھاکہ مغربی پنجاب سے مشرقی بنگال تک اور ممبئی سے لے کر تبت تک چین بھارت کے جہاز صرف الیکٹرو میگنیٹک سپکٹرم کی مدد سے جام کر سکتا ہے ۔ اگر یہ کوئی جہاز اڑانے کی کوشش کریں گےتو الیکٹرو میگنیٹک سے ان کا جہاز گرایا جا سکتا ہے جبکہ بھارت خود بھی اسے تسلیم کرتا ہے، تاہم چین کی جانب سے حالیہ کاروائی سے بھارت


کے اوسان خطا ہیں اور ان کی پریشانی میں شدت سے اضافہ ہو رہاہے ۔ سینئر تجزیہ کار کا مزید کہنا تھا کہ مودی بھارتی عوام کو کسی شکست ، ہار ، علاقے ہاتھ سے نکل جائیں ، فوجی مارے جائیں اس کے بارے میں نہیں بتاتے ،مودی کیا کر سکتا تھا ، اجیت دوول کیا کر سکتا تھا اس معاملے بعد بری طرح ایکسپوز ہو گئے ہیں ۔انہیں ہر طرف سے بری طرح شکست کا سامنا ہے ۔ دوسری جانب چینی وزیر خارجہ وانگ یی اور بھارت کے مشیر قومی سلامتی اجیت دیول کے درمیان ٹیلی فونک رابطے کے بعد دونوں ملکوں نے سرحدی کشیدگی میں کمی پر اتفاق کرلیا۔چینی گلوبل ٹائمز نے چینی وزارت خارجہ کے حوالے سے رپورٹ دی کہ بات چیت کے دوران دونوں ممالک کے رہنماؤں نے فوجی اور سفارتی سطح کے رابطوں میں پیشرفت کا خیرمقدم اور مذاکرات و مشاورت کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے ، کمانڈروں کی سطح کے مذاکرات میں ہونیوالے اتفاق رائے پر عمل درآمد کرتے ہوئے فرنٹ لائن پر تعینات فوجیوں کی جلد مکمل واپسی کی اہمیت پر زور دیاگیاہے ۔ بعدازاں ترجمان چینی وزارت خارجہ نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ دونوں ملکوں میں فرنٹ لائن پر تعینات فوجی واپس بلانے پر اتفاق ہو گیا ہے ۔ادھر بھارتی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہچینی فوج نے متنازعہ علاقے سے خیمے ، فوجی گاڑیاں اور دیگر تنصیبات ہٹانا شروع کر دی ہیں۔ فوجی ذرائع نے بتایا کہ کور کمانڈرز اجلاس میں جن امور پر اتفاق ہواتھا، چینی فوج نے ان پر عمل شروع کر دیا ہے ۔ دوسری طرف ترجمان چینی وزارت خارجہ نے بھی بارڈر کی صورتحال معمول پر لانے کیلئے مثبت پیش رفت کی تصدیق کی ہے ۔ یاد رہے چینی فوجیوں نے گزشتہ ماہ سرحدی خلاف ورزی پر لداخ کے علاقہ گلوان ویلی کی برف پوش چوٹیوں پر تعینات 20بھارتی فو جیوں کو ہلاک اورمتعدد کو زخمی کرد یا تھا ۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

میرے دو استاد

سنتوش آنند 1939ء میں سکندر آباد میں پیدا ہوئے‘ یہ بلند شہر کا چھوٹا سا قصبہ تھا‘ فضا میں اردو‘ تہذیب اور جذبات تینوں رچے بسے تھے چناں چہ وہاں کا ہر پہلا شخص شاعر اور دوسرا سخن شناس ہوتا تھا‘ سنتوش جی ان ہوائوں میں پل کر جوان ہوئے‘ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے لائبریری سائنس کی ڈگری لی ....مزید پڑھئے‎

سنتوش آنند 1939ء میں سکندر آباد میں پیدا ہوئے‘ یہ بلند شہر کا چھوٹا سا قصبہ تھا‘ فضا میں اردو‘ تہذیب اور جذبات تینوں رچے بسے تھے چناں چہ وہاں کا ہر پہلا شخص شاعر اور دوسرا سخن شناس ہوتا تھا‘ سنتوش جی ان ہوائوں میں پل کر جوان ہوئے‘ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے لائبریری سائنس کی ڈگری لی ....مزید پڑھئے‎