علماء کرام توہین رسالتؐ سمیت صحابہ کرام اور اہل بیت کی توہین کرنے والے عناصر سے لاتعلقی کا اعلان کریں ،پیر نور الحق قادری نے اہم پیغام جاری کر دیا

  منگل‬‮ 7 جولائی‬‮ 2020  |  0:11

اسلام آباد(آن لائن ) وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے کہاہے کہ علماء کرام توہین رسالت سمیت صحابہ کرام اور اہل بیت کی توہین کرنے والے عناصر سے لاتعلقی کا اعلان کریں ،ملک دشمن عناصر دہشت گردی کے بعد اب فرقہ واریت سے وطن عزیز کو کمزور بنانے کی سازشیں شروع کردی ہیں ،اسلام آباد میں مندر کی تعمیر سے متعلق علماء کرام سمیت اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کے بعد فیصلہ کیا جائے گا ۔پیر کے روز مجلس علماء پاکستان کے زیر اہتمام نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پیغام امن کانفرنس کا انعقاد کیا گیا


کانفرنس میں بادشاہی مسجد کے خطیب مولانا عبد الخبیر آزاد ،وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری ، مولانا فضل الرحمن خلیل علامہ عارف واحدی پیر نقیب الرحمن سمیت دیگر علما و مشائخ شریک ہوئے اس موقع پر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیرمین مجلس علماء پاکستان اور بادشاہی مسجد کے خطیب مولانا عبد الخبیر آزاد نے کہاکہ ہم توہین اور تکفیر دونوں کے خلاف ہیں اورجو بھی اسلاف کی توہین کرے یا کسی فرقے کی تکفیر کرے اسے سزا دی جائے انہوں نے کہاکہ توہین اور تکفیر کے خلاف قانون سازی کی جائے انہوں نے کہاکہ اس وقت پیغام پاکستان قومی بیانیہ بن چکا ہے پیغام پاکستان کے بیانیہ سے ملک میں دہشتگردی کا خاتمہ اور امن قائم ہوا پیغام پاکستان کو فرد فرد تک پہنچانے کی ضرورت ہے کانفرنس کا مقصد مذہبی ہم آہنگی و رواداری کو فروغ دینا ہے پیغام پاکستان کو پارلیمنٹ میں پیش کر کے آئین کا حصہ بنایا جائے انہوں نے کہاکہ ملک کو اسوقت درپیش چیلنجز کا سامنا ہے پوری قوم دہشتگردی کیخلاف متحد ہے، پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ملک اسوقت فرقہ وارانہ اور مسلکی فسادات کا متحمل نہیں ہو سکتا ہم سب کو مل کر اسلام دشمن قوتوں کی سازشوں کو ناکام بنانا ہو گا انہوں نے کہاکہ بھارت کشمیر میں ظلم وستم کر رہا ہے بھرپور مذمت کرتے ہیںکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےمولانا فضل الرحمان خلیل نے کہاکہ پاکستان دشمنوں کو ایک نظر نہیں بھاتا ہے اور اسی مقصد کیلئے ملک کے مشرقی اور مغربی بارڈر پر تخریب کاری لے اڈے بنائے گئے جن کا پاک فوج نے قلعہ قمع کیا ہے انہوںنے کہاکہ ہمارے سیکیورٹی کے اداروں نے وزیرستان میں اغیار کے منصوبوں کو ناممکن بنا کر امن کا گہوارہ بنایا ہے اوراب بلوچستان میں بھی امن آرہا ہے جس کے بعد اب دشمن ملک میں فرقہ بازی کو ہوا دے رہا ہے، انہوں نےکہاکہ دشمن جماعتوں کو نہیں خرید سکے تو افراد کو خریدا اور مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش کی جس رہی ہے، انہوں نے کہاکہ کسی بھی شخص یا جماعت کو حکومتوں سے اختلاف ہوسکتا ہے لیکن ملک سے کسی کو اختلاف نہیں ہوسکتا ہے کوئی مسلمان صحابہ کرام، ازواج مطہرات اہلبیت کی توہین برداشت نہیں کر سکتا ہے انہوںنے کہاکہ پیغام پاکستان حقیقت میں پیغام امن ہے، پیغام پیغام قومی ایجنڈا ہے جس نے قوم کو متحد کیا اور دشمنکے منصوبوں کو خاک میں ملا دیا ہے انہوںنے کہاکہ ہمارا دشمن بہت گھٹیا ہے اس لیے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کی ضرورت ہے انہوں نے کہاکہ وزیرستان اور بلوچستان کے بعد مذہبی منافرت کی سازش کو تمام مکاتب کرام کے علماء ناکام بنائیں گے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ عارف حسین واحدی نے کہاکہ اتحاد امت کے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کرسکتا، پاکستان اتحاد کت نام پر بنایا گیا تھا پاکستان کو ازاد کرانے کیلئے کلمے کےسائے تلے تمام علماء اکٹھے ہوئے اور جدوجہد کی انہوںنے کہاکہ جب ہم متحد تھے تو انگریزوں اور ہندوؤں سے اپنا ملک چھین لیا اوراج دشمن کے ایجنڈے پر چل کر کوئی وحدت کو سبوتاڑ کرنے کی کوشش کرے گا تو علما اس کا راستہ روکیں گے اانہوں نے کہاکہ ماضی میں بھی علما کرام نے فرقہ واریت کو شکست دی تھی اور اج بھی تمام مسالک کے علما اکٹھے ہیں انہوں نے کہاکہ اہل بیت، صحابہ کرام، ازواج مطہرات کی توہین کو کوئی مسلمانبرداشت نہیں کر سکتا ہے جو شیعہ سنی میں اختلاف کی بات کرتا ہے وہ مسلمان ہی نہیں ہے انہوں نے کہاکہ پیغام پاکستان کو نچلی سطح تک عام کرنا علماء اور عوام کی مشترکہ ذمہ درای ہے ہم عالم اسلام کو اتحاد و یکجہتی کی دعوت دیتے ہیںکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے کہاکہ موجودہ صورتحال تشویشناک ہے مجالس محافل اور سوشل میڈیا پر تشدد کی لہر آگئی ہے اور بعض اوقات کچھ غیر محتاطلوگ ایسی زبان استعمال کرتے ہیں جو فساد کی وجہ بنتی ہے انہوںنے کہاکہ ہمیں تکفیر و توہین سے نکل کر اتحاد امت کا پیغام دینا ہے انتشار اور تفرقہ بازی کی کوششیں ناکام بنائیں گے انتشار شیطانی جبکہ اتحاد رحمانی کوشش ہے اپنے مسلک کو نہ چھوڑو دوسرے کے مسلک کو نہ چھیڑوپر عمل کرنا ہوگا وفاقی وزیر نے کہاکہ میں جوانی کے اوائل میں ایران گیا اور چالیس سپاروں والا قرآن ڈھونڈتا رہا مگر کہیں نہیں ملا انہوں نے کہاکہ اگر کوئیصحابہ کرام و امہات المومنین اور اہلبیت عظام کی توہین کرتا ہے تو اس سے سب برات کا اعلان کریں انہوںنے کہاکہ پیغام پاکستان کے پیغام کو عام کرنے پر علمائے کرام مبارکباد کے مستحق ہیں،بین المذاھب ہم آہنگی کے حوالے سے علماء کرام اہم کردار ادا کر رہے ہیں، موجودہ صورتحال پاکستان کیلئے کئی حوالوں سے تشویش ناک ہے، سوشل میڈیا،دینی اجتماعات میں محترم شخصیات کی توہین کی جا رہی ہے جو معاشرے میں افراتفری کو فروغدے رہا ہے،ایک منفی بیانیہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، اورافراد کی جانب سے واجب القتل اور کافر ہونے کے فتویٰ جاری کیے جا رہے ہیں،پیغام پاکستان کو معاشرے میں پھیلانا وقت کی اہم ضرورت ہے،انتشار،تفرقہ بازی کی تمام کوششوں کو علماء کرام اتحاد سے ناکام بنائیں گے اپنے مسلک کو نا چھوڑو اور دوسروں کے مسلک کو نہ چھیڑو کا پیغام دینے کی ضرورت ہے اج بھی تمام امت مسلمہ کا ایک خدا اور ایک قرآن ہے،اس میں کوئی اختلافنہیں ہے انہوں نے کہاکہ فسادی خواہ کسی بھی مسلک سے ہوں علماء کرام ان سے لاتعلقی کا اعلان کریںاہل بیت ،صحابہ کرام، ازواج مطہرات کی توہین کرنے والے کا تمام مسالک کے علما بائیکاٹ کریں،انہوں نے کہاکہ پاکستان تمام مسالک،مذہب اور فرقے کے لوگوں کا ملک ہے ہم سب پاکستان کے اور پاکستان ہم سب کا ہے تحریک پاکستان کے دوران تمام مسالک کے علماء￿ نے قائد اعظم کا عقیدہ نہیں پوچھا، ملکر جدوجہد کی ہے اوراج بھی ہر مشکلوقت میں پاکستان کے تمام مسالک کے لوگوں نے بھرپور اتحاد کا ثبوت دیا، مسالک اور مذہب کے اختلاف میں بھی اللہ کی کوئی مصلحت ضرور ہوگی،کسی کو بھی دوسرے کو واجب القتل،کافر قرار دینے کا حق حاصل نہیں ہے،پیغام پاکستان پوری دنیا میں پاکستانی علماء کی کوشش ہے،سات سو سے زائد علما کا پیغام پاکستان پر اتحاد و اتفاق ہے پیغام پاکستان کے اہم حصوں پر قانون سازی کریں گے کسی کو حق حاصل نہیں ہوگا کسی کو کافر، واجب القتل قرار دے ریاست اور حکومت پیغام پاکستان کے نفاذ کے حوالے سے کردار ادا کرے گیانہوں نے کہاکہ پاکستان کی ریاست فرقہ بازی کے نام پر کسی کو سازش نہیں کرنے دے گی پاکستان کے ازلی دشمن کر طرف سے ناکام ہوکر فرقہ واریت کو ہوا دینا چاہتے ہیںعلماء کی بھی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کو امن کا پیغام پہنچائیں اور شدت پسندوں سے لاتعلقی کا اعلان کریںاورمیڈیا بھی امن، اتحاد، یکجہتی کا پیغام عام کرنے کیلئے بھرپور کردار ادا کرے انہوں نے کہاکہ اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے حوالے سے تمام مذہبی اور سماجی پہلووں کو دیکھا جائے گا،آئین میں اقلیتوں کے حقوق کی پاسداری کریں گے،مندر کی تعمیر کا معاملہ اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجا گیا ہے،اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کی روشنی میں مندر کی تعمیر سے متعلق حتمی فیصلہ کریں گے۔


موضوعات: