جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

بر طرف جج کے فیصلوں کے کیسز کا دوبارہ ٹرائل ہو اتو نواز شریف کی بریت بھی ختم ہو جائے گی،ن لیگ کیلئے انتہائی تشویشناک بات

datetime 4  جولائی  2020 |

اسلام آباد(آن لائن) وزیراعظم کے معاون خصوصی احتساب و امور داخلہ بیرسٹر شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ جج ارشد ملک برطرف کی وجوہات اور تفصیلی فیصلہ آنا ابھی باقی ہے مسلم لیگ ن روایتی طور پر جلد بازی میںمٹھائی کھا رہی ہے ۔ میرم نواز سے بھی بینہ ویڈیو کے معاملے میں تفتیش ہونی چاہئے، بر طرف جج کے فیصلوں کے کیسز کا دوبارہ ٹرائل ہو اتو نواز شریف کی بریت بھی ختم ہو جائے گی۔

ہفتے کے روز نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب و امور داخلہ شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ جج کی بر طرفی کے معاملے کا تفصیلی فیصلہ آنا باقی ہے جج کی برطرفی کے معاملے میں مسلم لیگ روایتی طور پر پہلے مٹھائی کھا رہی ہے جج ارشد ملک کا ان کردارو ں کے ساتھ پرانا تعلق ہے ناصر بٹ مفرور ہے وہ اس وقت برطانیہ میں ہیں، کس نے اس معاملے سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے انہوں نے کہا کہ جج کی برطرفی کے بعد نواز شریف کی ایک ریفرنس میں بریت پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں نیب کے قانون میں اس معاملے کی 14 سال سزا ہے جبکہ نواز شریف کو صرف 7 سال کی سزا دی گئی ہے۔ اس وقت اسلام آباد ہائی کورٹ میں مجموعی طور پر دواپیلیں زیر التوا ہیں ایک میں نواز شریف نے سزا کو کالدم قرار دینے کی اپیل کی ہے جبکہ دوسری میں نیب نے سزا کو بڑھا کر 14 کر نے کی اپیل کر رکھی ہے اس کے علاوہ نیب نے نواز شریف کی ایک کیس میں بریت کو بھی چیلنج کر رکھا ہے شہزاد اکبر نے کہا کہ مریم نواز سے بھی ویڈیوز کے بارے مٰیں تفتیش ہونی چاہئے جن لوگوں نے وڈیو دکھائی ہے ان کو فارنزک آڈٹ کے لئے اصل ویڈیو تفتیشی ادارو کے حوالے کرنا پڑے گی، مریم نواز نے الزام عائد کیا کہ فیصلے لینے کیلئے کسی نے جج کوبلیک میل کیا تھا۔ شہزاد اکبر نے کہا کہ اگر وہ ویڈیو کا فارنزک آڈٹ کروانا ضروری ہوتا تو لاہور ہائی کورٹ کیساتھ سینئر ترین جج

حکم دے سکتے تھے انہوں نے کہا کہ دوران سماعت کسی بھی جج کی جانب سے دیئے گئے ریمارکس حتمی نہیں ہوتے صرف تحریری فیصلہ حتمی ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ نے اگر ایف آئی اے کو تحریری حکم دیا ہو تا تو وہ ضرور ویڈیو کا فارنزک کرواتے انہوں نے کہا کہ جسٹس قیوم والے معاملے میں عدالتی نظر موجود ہے کہ اگر جج کی جانب داری ثابت ہو جائے تو مقدمے کا دوبارہ ٹرائل ہو سکتا ہے لیکن ایسی صورت میں تو نواز شریف کی بریت والا فیصلہ بھی ختم ہو جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…