بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

ملک میں کروناوائرس سے 74 فیصدافراد کی اموات کی وجہ سامنے آگئی ،تہلکہ خیز انکشافات

datetime 7  جون‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کورونا وائرس کے باعث ہونے والی اموات میں ایسے 74 فیصد تعداد ان مریضوں کی تھی جو پہلے سے کسی بیماری میں مبتلا تھے۔نجی ٹی وی کے مطابق نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے معاون خصوصی نے کہا کہ پاکستان میں عام پائی جانے والی بڑی بیماریوں میں زیادہ احتیاط کی جائے۔

انہوں نے کہاکہ ملک میں کووِڈ 19 کے باعث جاں بحق ہونے والوں کی تعداد میں 74 فیصد مریض وہ تھے جنہیں ذیابیطس، بلڈ پریشر یا دیگر بیماریوں میں مبتلا تھے، اور ایک سے زائد بیماریوں میں مبتلا ہونے کی صورت میں وائرس سے ہلاکت کا امکان مزید بڑھ جاتا ہے۔ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ اگر ماسک لگانے کے علاوہ معمر افراد اور بیماروں کی حفاظت کے حوالے سے زیادہ احتیاطی رویہ اپنایا جائے تو خاصی بچت ہوسکتی ہے۔پریس کانفرنس میں انہوں نے کچھ اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے روزانہ کی تعداد پر کیے جانے والے ٹیسٹ کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ 30 ہزار ٹیسٹ روزانہ کے ہدف سے ہم دور ہیں لیکن گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہم نے 23 ہزار 100 ٹیسٹ انجام دیے جن میں سے 4 ہزار 960 مثبت آئے۔ظفر مرزا نے کہا کہ اگر ٹیسٹس کی تعداد اور اس کے نتیجے میں مصدقہ کیسز کی شرح دیکھی جائے تو یہ 21.4 فیصد بنتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں اب تک مجموعی طور پر 6 لاکھ 83 ہزار 608 ٹیسٹ کیے گئے ہیں اور اب تک متاثرہ مریضوں میں سے 34 فیصد افراد صحتیاب ہو کر اپنی زندگیوں کے معمول کی جانب لوٹ چکے ہیں۔معاون خصوصی نے بتایا کہ اس وقت ملک کے ہسپتالوں میں 5 ہزار سے زائد مریض زیر علاج ہیں اور ان میں سے 262 کی حالت تشویشناک ہے اور وینٹیلیٹرز پر ہیں۔ظفر مرزا نے کہاکہ

ملک میں کووِڈ 19 کے لیے مختص کردہ وینٹیلیٹرز میں سے 75 فیصد اب بھی خالی ہیں اس کے باوجود یہ سننے کو آتا ہے کہ بڑے شہروں کے ہسپتالوں پر دباؤ ہے۔اس کو مدِنظر رکھتے ہوئے ہم نے ایک خصوصی ایپلکیشن کل متعارف کروائی جس کا استعمال کرتے ہوئے 6 مریضوں کو متبادل ہسپتال بھجوایا گیا۔

معاون خصوصی نے کہا کہ پچھلے 24 گھنٹوں میں 67 اموات کے ساتھ مجموعی تعداد 2 ہزار 2 تک پہنچ گئی ہے اور روزانہ اموات کی شرح 75 سے 76 فیصد ہے۔انہوں نے ایک مرتبہ پھر اس بات کو دہرایا کہ وائرس سے بچاؤ کے لیے ماسکس کا استعمال نہایت موثر ہے اس کا استعمال ضرور کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…