بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

کورونا کے نام پر کروڑوں کا دھندہ جاری، نجی ہسپتالوں نے کروڑوں روپے بٹور لئے، ایک دن کا اوسان خطا کر دینے والا خرچہ

datetime 7  جون‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) نجی ہسپتالوں میں کورونا کے نام پر کروڑوں کا دھندہ جاری، کورونا ٹیسٹ کی مد میں 33 کروڑ 62 لاکھ روپے بٹور لئے گئے۔ ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق کراچی کے نجی ہسپتال اب تک کورونا ٹیسٹ کی مد میں 33 کروڑ 62 لاکھ عوام سے بٹور چکے ہیں۔

کورونا کے مریض کے ایک دن کا خرچہ تیس ہزار سے ڈیڑھ لاکھ روپے تک لیا جا رہا ہے، بعض نجی ہسپتالوں میں دو لاکھ روپے بھی لئے جا رہے ہیں، یہی نہیں موت سے جنگ لڑنے والا ہسپتال میں تین لاکھ سے دس لاکھ روپے ایڈوانس جمع کرانے پر مجبور ہے۔ ایک دن آئسولیشن کا ایک لاکھ اور وینٹ کے ساتھ ڈیڑھ لاکھ روپیہ وصول کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگرنجی ہسپتال سے کورونا کا ٹیسٹ کیا جائے تو یہ ٹیسٹ 7 ہزار 9 سو کا ہے۔ اب تک تین سے چار ماہ میں 42 ہزار سے زائد ٹیسٹ ہوئے ہیں، صرف ان کی مد میں نجی ہسپتال 33 کروڑ روپے بنا چکے ہیں۔ نجی ٹی وی چینل نے دو مختلف نجی ہسپتالوں سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ مریض کو دس لاکھ روپے ایڈوانس میں جمع کرانا ہوں گے دس دن کے لئے، دوسرے نجی ہسپتال نے کہا کہ ایڈوانس کی مد میں تین لاکھ روپے جمع کرانا ہوں گے، دونوں نجی ہسپتالوں نے بتایا کہ کورونا کے مریض کا روزانہ کا خرچ تقریباً ایک لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ روپیہ ہے۔ غرض نجی ہسپتال کورونا کے نام پر عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں پہلے تو یہ کہا جاتا ہے کہ جگہ ہی نہیں ہے لیکن بعد میں مریض کو ایڈوانس رقم لے کر رکھ لیا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…