منگل‬‮ ، 20 جنوری‬‮ 2026 

’’فلائیٹ پی کے 8303کا آخری سفر ‘‘ جوانی میں کراچی کی ایک پارسی لڑکی سے شادی کرنا چاہتے تھے‘ والد سخت اور تگڑے تھے‘ وہ نہیں مانے،دو شادیاں کی طلاقیں ہو گئیں ،جو پسند تھی20سال بعد اس سے رابطہ ہوا ،باقاعدہ شادی کیلئے کراچی روانہ ہوا لیکن جہاز لینڈ کرنے سے پہلے تباہ ہو گیا ،لڑکی ائیر پورٹ پر پک کرنے آئی لیکن وہ سب کی پہنچ سے دور نکل چکے تھے ، افسوسناک واقعہ

datetime 31  مئی‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر کالم نگار جاوید چودھری اپنے کالم ’’ اللہ تیرا رحم ہے‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔۔۔میرے ایک دوست بھی اس فلائیٹ میں موجود تھے‘ نہایت شان دار انسان تھے‘ یہ جوانی میں کراچی کی ایک پارسی لڑکی سے شادی کرنا چاہتے تھے‘ والد سخت اور تگڑے تھے‘

وہ نہیں مانے‘ والدین کی مرضی سے ان کی شادی ہوگئی‘ خاتون بہت پڑھی لکھی‘ ذہین اور خوب صورت تھیں لیکن ان کا نبھا نہ ہوسکا‘ طلاق ہو گئی‘ دوسری شادی ہوئی‘ وہ بھی کام یاب نہ ہو سکی‘والد کا اس دوران انتقال ہو گیا‘ بیس سال بعد ان کا اسی پارسی خاتون سے رابطہ ہوا‘ وہ آج تک ان کا انتظار کر رہی تھیں۔یہ والدہ کے پاس گئے‘ اپنے بھائیوں اور بہنوں کو راضی کیا‘ فیملی ان کی ضد کے سامنے ہار گئی‘ یہ خوش ہو گئے‘ یہ ان کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی تھی‘ فیصلہ ہوایہ کراچی آئیں گے‘ لڑکی کی فیملی سے ملیں گے اور عید کے بعد باقاعدہ شادی ہو جائے گی‘ یہ بھی 22 مئی کو لاہور سے کراچی روانہ ہو گئے‘ وہ پارسی لڑکی جس کا انہوں نے20 سال انتظار کیا تھا وہ انہیں پک کرنے کے لیے کراچی ائیر پورٹ آگئی لیکن یہ کراچی پہنچ کر بھی اس تک نہ پہنچ سکے‘ یہ سب کی پہنچ سے نکل گئے۔میں نے دو دن قبل اخبارات میں ان کی مغفرت کا اشتہار پڑھا‘ میری آنکھوں میں آنسو آ گئے‘ بے شک ہم سب اپنے رب کی مہلت کے محتاج ہیں‘ یہ جب سانس ڈھیلی کر دیتا ہے تو انسان گرتے ہوئے جہاز سے بھی سیٹ سمیت سلامت نکل آتا ہے اور یہ جب سانس کھینچ لیتا ہے تو پھر ہمیں اگلی سانس کی مہلت نہیں ملتی‘ ہمارے دلوں کی دھڑکنیں ہمارے دل ہی میں منجمد ہوجاتی ہیں‘یااللہ تیرا کرم ہے‘ یا اللہ تیرا رحم ہے۔

موضوعات:



کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…