پی آئی اے طیارہ حادثہ کی ابتدائی رپورٹ حکام کے حوالے، طیارہ بلڈنگ سے کیسے ٹکرایا؟ اہم بات سامنے آ گئی

  ہفتہ‬‮ 23 مئی‬‮‬‮ 2020  |  23:25

لاہور (آن لائن) کراچی میں ہونیوالے پی آئی اے کے طیارہ کے حادثہ کی ابتدائی رپورٹ تیار کر کے ذمہ دار حکام کے حوالے کردی گئی ہے۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ طیارے کے لینڈنگ گیئر خراب ہونے پر پائٹ نے جب طیارے کو نچلی پرواز پر کیا تو طیارے سے پرندا ٹکرا گئے۔اس دوران لینڈنگ کے لئے طیارے کے پہیے نہ کھل سکے اور طیارہ رن وے کی طرف آتا ہوا بلڈنگ سے ٹکرا گیا۔ سول ایوی ایشن کے شعبہ ائیرسائیڈ کی جانب سے تیار کی گئی انسپکشن رپورٹ تیار میں کہا گیا ہے طیارے کے بائیں انجن


نے رن وے پر4500فٹ آگے جا کر جبکہ 5500فٹ دور جاکردائیں انجن نے بھی زمین کوٹچ کیا۔ کپتان نے طیارے کو لینڈ کرانے کی دو بار کوشش کی، رن وے پر اترنے کی کوشش کے دوران طیارے کے لینڈنگ گیئرزبندتھے، کپتان نے لینڈنگ کے وقت اے ٹی سی کو ہنگامی لینڈنگ کی اطلاع نہیں دی۔ طیارے کے بائیں انجن نے رن وے پر4500فٹ آگے جاکرٹچ کیا جبکہ 5500فٹ دور جاکردائیں انجن نے بھی زمین کوٹچ کیا، رن وے پر6 ہزار سے7 ہزارفٹ پردونوں انجن کے نشانات ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا طیار ے کے بیلی نے رن ویک کوٹچ نہیں کیاکپتان نے دوبارہ ٹیک آف کر لیا ، کراچی ایئرپورٹ کارن وے9ہزارسے10ہزار فٹ لمباہے، دوبارہ طیارہ ٹیک آف ہونے کے بعد لینڈنگ کی کوشش میں گر کر آبادی میں تباہ ہوگیا۔ اس حادثے میں طیارے کے کریو کا عملہ اور 97 مسافر جاں بحق ہوگئے۔ حادثے کے شکار طیارے کا بلیک باکس بھی مل چکا ہے، سیفٹی انویسٹی گیشن بورڈ نے بلیک باکس اور طیارے کا کچھ حصہ اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

“Be Kind To Yourself”

سکواڈرن لیڈر محمد اقبال ائیرفورس کے ریٹائر افسر ہیں‘ جسمانی عمر 73 برس ہے لیکن جذباتی 30 سال سے اوپر نہیں گئی‘ بچے بڑے ہیں اور مطمئن زندگی گزار رہے ہیں‘ اہلیہ کا انتقال ہو چکا ہے‘ یہ انہیں بہت مس کرتے ہیں‘ تین چار سو لطیفے یاد ہیں‘ جہاں کھڑے ہوتے ہیں وہاں چند منٹوں میں قہقہے ....مزید پڑھئے‎

سکواڈرن لیڈر محمد اقبال ائیرفورس کے ریٹائر افسر ہیں‘ جسمانی عمر 73 برس ہے لیکن جذباتی 30 سال سے اوپر نہیں گئی‘ بچے بڑے ہیں اور مطمئن زندگی گزار رہے ہیں‘ اہلیہ کا انتقال ہو چکا ہے‘ یہ انہیں بہت مس کرتے ہیں‘ تین چار سو لطیفے یاد ہیں‘ جہاں کھڑے ہوتے ہیں وہاں چند منٹوں میں قہقہے ....مزید پڑھئے‎