بدھ‬‮ ، 04 فروری‬‮ 2026 

مولانا طارق جمیل نے گزشتہ شام مجھےٹیلیفون کیااور وہ کہنے لگے کہ ۔۔۔!!! حامد میر اورمعروف مذہبی سکالر کے درمیان کیابات چیت ہوئی؟ سینئر صحافی نے خود ہی سب کچھ بتادیا

datetime 4  مئی‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)معروف صحافی اور کالم نگار حامد میر روزنامہ جنگ میں شائع اپنے کالم ’’مولانا طارق جمیل کا شکریہ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔پچھلے ہفتے محترم مولانا طارق جمیل نے وزیراعظم ہائوس اسلام آباد میں ہونے والی ایک ٹیلی تھون کے دوران معاشرے میں جھوٹ کا ذکر کیا تھا اور سارے میڈیا کو جھوٹا قرار دے دیا۔

ہماری گزارش صرف اتنی تھی کہ سارا میڈیا جھوٹا نہیں کچھ لوگ سچ بھی بولتے ہیں لہٰذا بہتر ہوگا مولانا صاحب ان لوگوں کے نام بتائیں جو جھوٹ بولتے ہیں۔اس گزارش کی وجہ یہ تھی کہ جس میڈیا کو انہوں نے جھوٹا قرار دیا اس میڈیا کو وزیراعظم نے اپنے اردگرد بٹھا کر تین گھنٹے کی ٹیلی تھون کی اور پھر وہی میڈیا جھوٹا قرار پایا۔اگلے دن ایک ٹی وی پروگرام میں مولانا طارق جمیل نے اپنے الفاظ پر معذرت کر لی۔ اس پروگرام میں نہ میزبان محمد مالک اور نہ میں نے معذرت یا معافی کا مطالبہ کیا لیکن مولانا صاحب نے خود ہی معافی مانگ لی اور بات ختم ہو گئی لیکن کچھ لوگوں نے مولانا صاحب کے نام پر سوشل میڈیا میں گالم گلوچ کا طوفان کھڑا کردیا۔رمضان المبارک میں گالم گلوچ اور لعن طعن کرنے والے دراصل اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں شاید اس لئے کہ اکثر کو پتا ہی نہیں کہ بغیر ثبوت کسی کے ایمان اور حب الوطنی پر سوال اٹھانے کا کیا گناہ ہے۔ بھلا ہو مولانا طارق جمیل کا انہوں نے کل شام مجھے فون کیا اور کہا کہ یہ جو طوفانِ بدتمیزی ہے اس پر مجھے افسوس ہے، میں آپ سے معافی مانگتا ہوں۔یہ میری ان سے پہلی دفعہ براہِ راست گفتگو تھی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ میرے والد مرحوم پروفیسر وارث میر کے فین ہیں اور انہوں نے مجھے والد مرحوم کے آخری الفاظ بھی سنائے۔ میں نے عرض کیا کہ پہلے بھی آپ نے ہمارے اصرار یا مطالبے کے بغیر معافی مانگی، اب بھی آپ اپنے طور پر معافی مانگ رہے ہیں، یہ آپ کی بڑائی ہے۔اگر میری کسی بات سے آپ کا دل دکھا ہو تو میں بھی معافی چاہتا ہوں۔ مولانا صاحب سے گزارش ہے کہ وہ آئندہ کسی تقریر یا پروگرام میں بہتان تراشی پر بھی بات کریں اور اس کے لئے کیپٹل ٹاک بھی حاضر ہے۔انہوں نے میرے والد مرحوم کے لئے جو کلمات اور محبت کا اظہار کیا اس پر میں نے ان کا شکر گزار ہوں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…