جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

’’انہیں روکیں ، یہ آپ کیلئے خطرناک ہو گا ‘‘ فردوس عاشق اعوان دو دفعہ وزیر رہ چکی تھیں ، بیورو کریسی کی ایک ایک واردات سے واقف تھیں ، معروف سینئر بیورو کریٹ نےمحترمہ سے کسے روکنے کا کہا تھا؟ فردوس عاشق اعوان نے انہیں آگے سے کیا جواب دیا تھا ؟ اندر کی کہانی کھل کر سامنے آنے لگی ، چونکا دینے والے انکشافت

datetime 29  اپریل‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر کالم نگار منصور آفاق اپنے کالم ’’فردوس عاشق اعوان کیوں ہٹائی گئیں ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔ میرے نزدیک انہیں ہٹانے کا بنیادی سبب بیوروکریسی ہے جس کے لئے فردوس عاشق اعوان کو برداشت کرنا مشکل ہو گیا تھا۔ وہ دو مرتبہ پہلے وزیر رہ چکی تھیں، بیورو کریسی کی ایک ایک واردات سے واقف تھیں۔ ان کے سامنے کوئی بیوروکریٹ اپنی مرضی نہیں کر سکتا تھا۔

مجھے یاد ہے کہ ایک شام جب وہ، میں اور ان کی وزارت کے ایک بڑے بیوروکریٹ انہی کے گھر گپ شپ کررہے تھے تو میں نے وزیراعظم کے ایک قریبی افسر کے بارے میں کچھ باتیں کیں اور کہا کہ میں یہ ساری باتیں کالم میں لکھنا چاہ رہا ہوں۔اُس بیوروکریٹ نے فوری طور پر محترمہ سے کہا، ’’اِنہیں روکیں، یہ آپ کیلئے خطرناک ہوگا‘‘ تو انہوں نے کہا: میرے لئے کیوں، میں تھوڑی لکھوا رہی ہوں۔ منصور آفاق کو پی ٹی آئی کے حق میں لکھتے ہوئے دس سال سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے۔ دوسرا، یہ میانوالی کے ہیں، وہاں عمران خان کے ہمسائے ہیں، یہ جانیں اور خان جانیں۔اس کالم کے شائع ہونے والے دن جب اُسی افسر سے اس کے آفس میں میری ملاقات ہوئی تو اس نے مجھے کہا ’’میرا لیڈر وزیراعظم ہائوس کا ایک بڑا افسر ہے‘‘۔ مجھے اسی وقت اس بات کی سمجھ آ گئی تھی کہ اب فردوس عاشق اعوان کی باری لگ گئی ہے۔ بیشک اس وقت بیورو کریسی کا وزیراعظم عمران خان نہیں بلکہ ایک بیورو کریٹ ہے۔ ایک دن میں وزارتِ اطلاعات کے ایک افسر کے دفتر میں بیٹھا تھا، تو ایک افسر اطلاعات اندر داخل ہوا، چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ لگ رہا تھا کہ کسی مشکل سے نکل کر آرہا ہے، میں نے پوچھ لیا ’’خیریت تو ہے نا‘‘ کہنے لگا ’’اپنے باسز کی چپقلش سے تنگ آ گیا ہوں‘‘۔ میں نے کہا ’’جناب کی باس تو فردوس عاشق اعوان نہیں ہے‘‘ پریشانی سے سر ہلا کر بولا ’’کچھ لوگ وزیراعظم سیکرٹریٹ میں بھی بیٹھے ہوئے ہیں‘‘۔بہرحال اقتدار کے ایوانوں میں سازشیں جاری رہتی ہیں۔ کبھی کوئی کامیاب ہو جاتا ہے

کبھی کوئی، لیکن اسٹیبلشمنٹ سے واسطہ رکھنے والے کسی نہ کسی طرح دوبارہ واپس آ ہی جاتے ہیں۔ فردوس عاشق اعوان کو ہٹا کر شبلی فراز کو وزارت دینے کا ایک مفہوم اور بھی ہے۔ وہ یہ کہ اب عمران خان نے مصالحت کی سیاست شروع کردی ہے۔ پہلے عمران خان اپنی ٹیم میں ایسے افراد رکھنا پسند کرتے تھے جو حزبِ اختلاف میں گرجنے اور برسنے میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے تھے۔

اب انہوں نے ایک ایسے شخص کو وزیر بنایا ہے جو مفاہمت کی سیاست کا قائل ہے جس کے وزیر بننے کا خیر مقدم نون لیگ اور پیپلز پارٹی دونوں نے کیا ہے۔ یہ عمران خان کے رویے میں ایک بڑی تبدیلی ہے۔ اسی بدلتے ہوئے رویےکو دیکھتے ہوئے شاید کچھ لوگ قومی حکومت کے متعلق سوچنا شروع ہو گئے ہیں۔پی ٹی آئی کی حکومت تو ویسے ہی قومی حکومت ہے، اس میں مختلف پارٹیوں سے آئے ہوئے لوگ ہی وزیر اور مشیر ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ شبلی فراز صرف دکھانے کے لئے ہیں، کھانے کے لئے نہیں۔ بہرحال میں اتنا جانتا ہوں کہ پی ٹی آئی میں ابھی فردوس عاشق اعوان کا دور ختم نہیں ہوا۔ جلد یا بدیر عمران خان کو اپنا اسٹاف بدلنا ہوگا۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…