اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

ڈاکٹر ظفر مرزا اور ڈاکٹر یاسمین راشد کرونا انتظامات سے متعلق عدالت کو دھوکہ دے رہے ہیں،چیف جسٹس آف پاکستان کے نام خط لکھ دیا گیا

datetime 19  اپریل‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)گرینڈ نیشنل ہیلتھ الائنس نے چیف جسٹس کے نام خط لکھ دیا جس میں موقف اختیار کیاگیا کہ معاون خصوصی ظفر مرزا اور پنجاب کی وزیر صحت یاسمین راشد کرونا انتظامات سے متعلق عدالت کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق خط میں موقف اختیار کیاگیاکہ کرونا مریضو ں کیلئے سہولیات کی فراہمی سے متعلق غلط بیانی سے کام لیا جارہا ہے،معاون خصوصی ظفر مرزا اور وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد کہیں مال تو نہیں بنا رہے۔

موقف اختیار کیاگیاکہ ہر روز وزراء ایئر پورٹس پر فوٹو سیشن کرواتے ہوئے یہ بیان دیتے ہیں چائنہ سے کروٹا ٹیسٹ کٹ،وینٹی لیٹرز سمیت دیگر آلات ملے۔موقف اختیار کیا گیا کہ کہیں پاکستان کو چائنہ سے ملنے والے طبی آلات سمگل تو نہیں ہو رہے،وزراء یہ غلط تاثر دے رہے ہیں کہ ینگ ڈاکٹرز،نرسز اور پیرامیڈیکل سٹاف نے او پی ڈیز اور ان ڈور ایمرجنسی پر کام روک دیا ہے،ڈریپ کی طرف سے تاحال پلازما ٹیکنالوجی کی منظوری نہیں دی گئی،درحقیقت ڈریپ میں تکنیکی تجربے سے خالی بدعنوان افراد کا جھرمٹ موجود ہے۔موقف اختیار کیاگیاکہ پلازما ٹیکنیک کیلئے کیا مزید اموات کا انتظار کیا جارہا ہے،سرکاری ہسپتالوں میں کرونا کے لازمی ٹیسٹ کی سہولت کیوں موجود نہیں،شوکت خان اور آغا خان ہسپتال میں کرونا ٹیسٹ کی سہولت موجود ہے،ڈاکٹر یاسمین راشد صحت کے بجٹ میں اضافے کی ہمیشہ بات کر تی رہیں لیکن ہسپتالوں میں ادویات نہیں ہیں۔موقف اختیار کیاگیاکہ ڈریپ کے عملے کو ہسپتال عملے کے مقابلے میں تین گنازیادہ تنخواہیں دی جارہی ہیں،وزارت صحت کے عملے کو کلریکل کام کے باوجود پیشہ وارانہ الاؤنس کیو ں دیا جارہا ہے، تین ارب روپے کی ٹائیڈفائیڈ ویکسین بھارت سے کیوں منگوائی گئی،وزراء روزانہ ماسک تبدیل کرتے ہیں لیکن ہسپتال کا عملہ بنیادی تحفظ کے آلات سے محروم ہے،ڈاکٹر ظفر مرزا نے سی ای او ڈریپ اور کچھ ادویات ساز کمپنیوں کے ذریعے چیف جسٹس کیخلاف تضحیک آمیز مہم چلائی۔استدعا کی گئی کہ وزراء اور انتظامیہ کو ہسپتالوں کے امور میں مداخلت سے روکا جائے،نکالے گئے طبی عملے اور ڈاکٹرز کو بحال کیا جائے،ہسپتال کے عملے کو دو گنا تنخواہ دی جائے،صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد،ڈاکٹر ظفر مرزا،سی ای او ڈریپ کے خلاف فوجداری کارروائی کی جائے،ڈاکٹراور طبی عملے کو حفاظی آلات فراہم کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…