اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

کراچی میں کرونا وائرس سے اموات ہوئیں یہ کہنا قبل از وقت ہو گا، ڈاکٹر ظفر مرزا نے حیرت انگیز بات کر دی

datetime 17  اپریل‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ کراچی میں اموات کورونا وائرس کی وجہ سے ہوئی،پاکستان میں اب تک 10 لاکھ ٹیسٹ کی صلاحیت موجود ہے،روزانہ 20 ہزار تک ٹیسٹ کیے جائیں گے،کنفرم کیسز کی تعداد 7025 ہوچکی ہے،44افراد وینٹی لیٹر پر ہیں۔ جمعہ کو معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ کراچی میں اموات کورونا وائرس کی وجہ سے ہوئی۔

ظفر مرز انے کہاکہ پاکستان میں بتدریج ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت بڑھ رہی ہے،24 گھنٹوں میں 6264 ٹیسٹ کیے ہیں جو اب تک سب سے زیادہ ہے،پاکستان میں اب تک 10 لاکھ ٹیسٹ کی صلاحیت موجود ہے،روزانہ 20 ہزار تک ٹیسٹ کیے جائیں گے،یہ ٹیسٹ نشاندہی میں مدد دیں گے کہ لوگوں میں کورونا وائرس ہے کہ نہیں،اسی حکمت عملی سے ہم اس وباء کو پھیلنے سے روکا جاسکے گا۔انہوں نے کہاکہ ٹریسنگ، کونٹیکٹنگ کے نام سے ایک اور پالیسی متعارف کروا رہے ہیں،یہ اموات 22 لاکھ لوگوں میں پھیل چکی 1.47 لاکھ وفات ہوئی ہیں،5 لاکھ 53 ہزار افراد صحت یاب ہوچکے ہیں،پاکستان میں 497 افراد نئے سامنے آئے ہیں،کنفرم کیسز کی تعداد 7025 ہوچکی ہے،گزشتہ 24 گھنٹوں میں 340 سندھ اور 59 پنجاب اور 58 خیبر پختونخواہ میں رپورٹ ہوئے،پاکستان میں بھی اب تک مکمل ہونے والے افراد کی تعداد 1765 ہوچکی ہے،اب پاکستان میں 60 فیصد پھیلاؤ مقامی سطح پر ہورہا ہے،24 گھنٹوں میں 11 اموات مجموعی تعداد 135 ہوچکی ہے،اب تک مْلک میں 44 افراد ایسے ہیں جو وینٹی لیٹر پر ہیں۔ انہوں نے کہاکہ عالمی سطح پر شرح 6.7 فیصد پاکستان میں 1.9 فیصد شرح مرض ہے،رمضان اس وقت آرہا ہے جب وبا پھیلی ہوئی ہے اس حوالے سے قومی سطح پر ایک ہدایت نامہ مرتب کیا جارہا ہے،پاکستان کے اندر سے بہت لوگوں کی رقوم اود ادویات کی صورت میں امداد پہنچ رہی ہے،ہماری قوم کا خاصا ہے ہم ایسے حالات میں یکجاء ہوجاتے ہیں،پاکستان سے باہر میڈیکل کمیونٹی کی طرف سے بھی مْلک میں کورونا کے حوالے سے مدد کرنا چاہتے ہیں،پاکستان کے 30 ہزاد سے زائد ڈاکٹرز پوری دنیا میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں،اس حوالے سے یارانے وطن کے نام سے ایک پلیٹ فارم کا آغاز کیا جارہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…