اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

کورونا کے پھیلنے کا شدید خطرہ لاحق ہو گیا، لاک ڈائون کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی گئیں

datetime 14  اپریل‬‮  2020 |

بہاول پور( آن لائن)بہاول پور میں کورونا کے پھیلنے کا شدید خطرہ لاحق ہو گیا۔ دکانداروں نے لاک ڈائون کی دھجیاں بکھیر کے رکھ دیں۔ اندرون و بیرون شہر دکانیں کھول کر ہجوم اکٹھے کر لئے۔ شہریوں میں شدید خوف و ہراس پولیس دفعہ 144پر عملدرآمد میں ناکام ہو گئی۔ دکاندار آدھے شٹر گرا کر کاروبار میں مصروف ہیں۔ انتظامیہ نے بھی چپ سادھ لی۔ بہاول پور میں 70فیصد دکانداروں نے

اعلانیہ اور نصف شٹر گرا کر لاک ڈائون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے کاروبار سجا لئے ہیں۔ اندرون اور بیرون شکارپوری گیٹ کے علاوہ مچھلی بازار، شاہی بازار، چوک بازار، فتح خاں بازار میں کاروبار زندگی رواں کر لیا ہے جس کے باعث ہر طرف چہل پہل اور رش کا سماں ہے۔ سماجی فاصلوں کے حوالے سے اقدامات کی بھی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ دکانداروں نے دفعہ 144کی علی الاعلان خلاف ورزی شروع کر دی ہے جبکہ پولیس بھی خاموش تماشائی بنی کھلی آنکھوں سے یہ نظارہ دیکھنے میں مصروف ہے۔ اس سے شہر بھر میں کورونا کے پھیلنے کے شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں اور لوگوں میں خوف وہراس پایا جاتا ہے۔ اس سے یہ بات بھی ثابت ہو سکتی ہے جس کا عالمی ادارے خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ پاکستان میں کورونا وائرس پھیلنے کا شدید خطرہ ہے۔ سرائیکی چوک میں بھی 60فیصد سے زائد دکانیں کھلی ہیں۔ اسی طرح یونیورسٹی چوک اور اندرون فرید گیٹ بھی شٹر ڈائون نہیں کیا جا رہا۔ انتظامیہ بھی اس حوالہ سے اقدامات پر عملدرآمد میں ناکام دکھائی دے رہی ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو بہت بڑا انسانی المیہ رونما ہو سکتا ہے۔ شہریوں نے کمشنر بہاول پور، آر پی او، ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او سے فوری نوٹس لے کر لاک ڈائون پر موثر عملدرآمد کا مطالبہ کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…