اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

حکومت کو چیف جسٹس کی ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کا مشورہ دیدیا گیا

datetime 13  اپریل‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر رحمان ملک نے چیف جسٹس پاکستان کی ہدایات پر حکومت کو سختی سے عمل کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہاہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی احکامات کو نظر انداز کرنا آئین کی خلاف ورزی ہوگی۔ ویڈیو لنک کے ذریعے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ چیف جسٹس آف پاکستان نے کورونا وائرس کے حوالے سے لئے گئے حکومتی اقدامات میں بروقت غلطیوں کی نشاندہی کی ہے۔

سینیٹر رحمان ملک نے کہاکہ چیف جسٹس آف پاکستان کی احکامات کو نظر انداز کرنا آئین کی خلاف ورزی ہوگی، چیف جسٹس کا بیان ‘‘موزون کام کیلئے موزون شخص کا انتخاب’’ میں بہت وزن ہے، چیف جسٹس کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے حکومت عوام کا اعتماد بحال کرسکتی ہے، کاش حکومت سینیٹ قائمہ کمیٹی داخلہ کے 37 پوائنٹس نیشنل ایکشن پلان پر بروقت عملدرآمد کرتی۔ انہوںے کہاکہ اگر حکومت ہمارے پیش کردہ 37 پوائنٹس پر بروقت عملدرآمد کرتی تو حالات کافی مختلف ہوتے، ہم نے کورونا وائرس کے بروقت روک تھام کیلئے ایک جامع حکمت عملی پیش کی تھی، ایک بار پھر حکومت سے سینیٹ قائمہ کمیٹی داخلہ کے 37 پوائنٹس جامع حکمت عملی پر عملدرآمد کرنے پر زور دیتا ہوں۔سینیٹر رحمان ملک نے کہاکہ سول ہسپتالوں کے پاس کورونا وائرس سے لڑنے کیلئے ضروری طبی سازوسامان موجود نہیں۔ انہوںنے کہاکہ ڈاکٹر و دیگر طبی عملے کے پاس حفاظتی کٹس اب تک موجود نہیں ہیں، ڈیٹول و پٹرول کو ملا کر نہ تو ہسپتالوں مین جراثیم مارے جاسکتے ہیں اور ڈاکٹرز کو بچایا جا سکتا ہے، امید ہے حکومت سیاسی مجبوریوں کو بلائے طاق رکھتے ہوئے سپریم کورٹ کے احکامات کی پیروی کریگی۔ انہوںنے کہاکہ آج حالات دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ یہ کورونا سے کم اور محلے ماسی کی لڑائی زیادہ ہے، وفاق کی صوبائی حکومتوں سے لڑائی اور آپس کی مخالف بیان نازی سے کورونا کو شکست دینا ممکن نہیں ہوگا، وزیراعظم عمران خان کو مشورہ دیتا ہوں کہ وزراء کو اختلافی بیانات سے منع کرے۔سینیٹر رحمان ملک نے کہاکہ ملک مشکل حالات سے دوچار ہے وزیراعظم عمران خان ملک میں اتفاق، یکجہتی و اتحاد کی فضا قائم کرے، ملک و عوام کی سالمیت کو مدنظر رکھکر ہم سب کو ملکر کورونا وائرس سے لڑنا ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…