جمعہ‬‮ ، 13 فروری‬‮ 2026 

کرونا وائرس سے زیادہ خطرہ کس چیزسے ہے؟پاکستان سمیت دیگر ترقی پذیر ممالک کو کونسا خوف ستانے لگا ؟ عالمی برادری کو خبردار کر دیا گیا

datetime 12  اپریل‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے عالمی رہنماؤں، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور عالمی مالیاتی اداروں کے سربراہان سے اپیل کی ہے کہ وہ کوروناوائرس سے نمٹنے کیلئے ترقی پذیر ممالک کی مدد کریں اور انہیں قرضوں میں ریلیف دیں،کورونا کے ساتھ لوگوں کے بھوک سے مرنے کا بھی خدشہ ہے، صورتحال سے نکلنے کیلئے لائحہ عمل تشکیل دیا جائے، ہمارے پاس وسائل نہیں کہ

صحت پر زیادہ خرچ کر سکیں، لوگوں کو بھوک سے بچانے کیلئے بھی وسائل کی کمی ہے،وائرس سے نمٹنے کے لیے پوری دنیا کو مل کر کام کرنا ہوگا عالمی ادارے ترقی پذیرممالک کو قرضوں پر ریلیف دیں۔اتوار کو بین الاقوامی برادری سے اپنے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کورونا کی صورتحال سے پوری دنیا متاثر ہوئی ہے تاہم ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں اس حوالے سے الگ طرح کا ردعمل آیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ ترقی یافتہ ممالک کے پاس وسائل اور پیسے کی کمی نہیں ہے اور وہ بھاری رقم خرچ کر کے صورتحال کا مقابلہ کر رہے ہیں لیکن ترقی پذیر ممالک میں لاک ڈاؤن اور معاشی سرگرمیاں نہ ہونے سے عوام کو بھوک اور شدید معاشی مسائل کا سامنا ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ جاپان نے ایک ٹریلین ڈالر، جرمنی نے ون ٹریلین یوروز، امریکہ نے 2.2ٹریلین کا پیکج دیا ہے لیکن پاکستان جیسا ملک جس کی 22کروڑ آبادی ہے، کے پاس وسائل کی کمی ہے اس کے باوجود ہماری حکومت 8ارب ڈالر خرچ کر رہی ہے۔ انہوں نے عالمی رہنماؤں، عالمی مالیاتی اداروں کے سربراہان اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے اپیل کی کہ وہ اس صورتحال میں پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کو قرضوں میں ریلیف فراہم کریں کیونکہ ترقی پذیر ممالک کو دوہرے مسائل کا سامنا ہے۔ وزیراعظم نے کہاکہ وہ ایک طرف کورونا وائرس سے اپنی عوام کو بچا رہے ہیں اور دوسری جانب معاشی صورتحال اور لاک ڈاؤن کے باعث اپنے لوگوں کو بھوک سے بھی بچا رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ جو مسئلہ پاکستان کو درپیش ہے اکثر ترقی پذیر ممالک اس صورتحال سے دوچار ہیں، ہمارے پاس وسائل نہیں کہ صحت پر زیادہ خرچ کر سکیں۔ لوگوں کو بھوک سے بچانے کیلئے بھی وسائل کی کمی ہے اس صورت میں عالمی ادارے ترقی پذیر ممالک کے اس مسئلے کی طرف بھی توجہ دیں۔‎



کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…