اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

سندھ حکومت کی جانب سے مستحقین کو ایکسپائرڈ راشن فراہم کرنے کا انکشاف مستحق افراد کو ناقص کوالٹی کا راشن فراہم کیا جانے والا سامان کتنے برسوں پہلے ناقابل استعمال ہو چکا تھا ؟ رپورٹ میں انتہائی افسوسناک انکشافات سامنے آگئے

datetime 12  اپریل‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )حکومت سندھ کی طرف سے مستحق افراد میں ایکسپائر راشن تقسیم کیا جانے لگا ۔ تفصیلت کے مطابق سندھ حکومت کی جانب سے مستحق اور غریب افراد میںمعیاد ختم شدہ راشن فراہم کرنے کا انکشاف ہواہے ۔ انکشاف ٹھٹھہ کے رہائشیوں کی طرف سے کیا گیا ، اہل علاقہ کی جاب سے کہا گیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے فراہم کر دہ راشن کھانے سے ہمارے بچوں کی طبعیت بگڑ گئی ہے

اس بارے میں پولیس کو بتایا لیکن انہوں نے کوئی ایکشن نہیں لیا اور نہ ہی کوئی درخواست درج کی ہے ۔ بیورو آف سپلائی اینڈ پرائس کی رپورٹ نے کہا ہے کہ راشن بیگز نجی ٹھیکیدار نےدیئے تھے جو تمام تعلقہ کے اسسٹنٹ کمشنرز کے تحت یوسی چیئرمینز کو فراہم کیےگئے ہیں ،ان بیگز کی تقسیم شروع کی گئی تو ان میں نہ صرف ناقص سامان کی موجودگی بلکہ ان میں کم وزن کی شکایات بھی سامنے آئیں۔موجود دستاویزات کے مطابق اس بات کا بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ سندھ حکومت کو نجی ٹھیکدار کی جانب سے فراہم کیے گئے راشن کے بیگز ایک تو مذکورہ وزن سے کم ہیں دوسرا انکی قیمت بھی مارکیٹ میں دستیاب وزن اور قیمت سے 179 کم ہے جبکہ بیگز میں موجود اشیاء بھی برسوں پہلے اپنی مدت پوری کر چکی ہیں۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ون لیاقت کلہوڑو کو جب فراہم کیے گئے راشن بیگز میں وزن اور ایکسپائرڈ اشیاء خورونوش کی شکایت موصول ہوئی تو انہوں نے محکمہ خوراک اور بیورو آف سپلائی اینڈ پرائس کے عملداروں کے ساتھ مل کر اس معاملے کی انکوائری کی تو راشن بیگز میں موجود سامان ایکسپائرڈ پایا گیا۔کھانا پکانے کا تیل اور چائے کی پتی اور راشن بیگز میں موجود دیگر سامان برسوں پہلے ایکسپائر ہو چکے تھے جو پیک کرکے مستحقین میں تقسیم کیا جا رہا تھا۔ مستحق افراد میں تقسیم کیا جانے والا راشن سال 2002، 2006 اور 2008 سے ناقابل استعمال ہو چکا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…