اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

بنیادی فیصلے ہوگئے، خان صاحب سیدھی لڑائی لڑنے کے موڈ میں آگئے،وزیراعظم کی سوچ میں ایک بنیادی اور اہم تبدیلی آ گئی،معروف صحافی نے اندر کی بات بتا دی

datetime 11  اپریل‬‮  2020 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) عمران خان نے بنیادی فیصلے کر لئے اور اب سیدھی لڑائی لڑنے کے موڈ میں آ گئے ہیں، چاہے کوئی بھی سامنے ہو ان کو سمجھ آ گئی ہے کے اس گندی ترین سیاست میں کیسے اور کس سے لڑنا ہے، وہ تیار ہیں اور ان کی پارٹی بھی، اب سازشوں کا دور گیا۔ معروف صحافی شاہین صہبائی نے اپنے کالم میں چینی مافیا اور کرپٹ مافیا سے متعلق کئی انکشافات کئے اور یہ بھی بتادیا کہ وزیراعظم عمران خان کیا سوچ رہے ہیں اور ان کے کیا خطرناک ارادے ہیں۔

معروف صحافی کے مطابق وہ سیدھی لڑائی لڑنے کے موڈ میں آگئے ہیں۔انہوں نے اپنے کالم میں لکھا کہ پاکستان کی سیاست میں یا وزیر اعظم عمران خان کی سوچ میں یقینا ایک بنیادی اور اہم تبدیلی آ گئی ہے۔ عمران خان نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اب اس جادو کی چھڑی کو مضبوطی سے پکڑ کر رکھیں گے اور بوقت ضرورت کسی کو اگر پھینٹی لگانی ہو تو اس ڈنڈے کو استعمال بھی کریں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے یہ محسوس کر لیا ہے کہ ان سیاسی ہتھکڑیوں میں بند رہ کر وہ نہ کسی چور کو سزا دے سکتے ہیں اور نہ ہی اپنی پارٹی کے نعرے کسی چور کو نہیں چھوڑوں گا پر عمل کر سکتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے اندازہ لگا لیا ہے کہ وہ ہر قسم کے مافیاز کے خلاف کھڑے تو ہو سکتے ہیں مگر یہ نظام اور ان بڑی بڑی لوٹ مار کی مشینوں اور ہر ادارے میں ان کے ماہر اور چالاک مکینک اکٹھے ہیں۔ان کو ہرانا مشکل ہے۔ معروف صحافی نے اپنے کالم میں لکھا کہ خان صاحب اب اپنی اصلی سوچ کی طرف چل پڑے ہیں جب سے انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ چینی اور آٹے کے سکینڈل کی اعلیٰ سطح پر تفتیش کرائی جائے وہ اس بات کے لئے تیار لگتے ہیں کہ اب میں نے یہ نہیں سوچنا کہ سیاست کا کیا ہو گا یا حکومت کا کیا بنے گا اور جب سے کورونا آیا ہے ہر ایک کو یہ خدائی وارننگ بھی مل گئی ہے کہ کوئی بادشاہ ہو یا فقیر‘ وزیر اعظم ہو یا چپڑاسی اگر کورونا نے پکڑنا ہے توکوئی نہیں بچا سکتا۔ دو تین باتیں واضح ہو گئیں ایک یہ کہ خان صاحب اور دوسرے مقتدر ادارے اب یہ فیصلہ کر چکے کہ

اس سیاسی مگر کاغذی محل کو اگر جھٹکا لگا تو ملک اسی قسم کے سیاسی جوڑ توڑ اور جھوٹ پر مبنی ایک اور ڈھانچہ کھڑا کرنے اور تجربہ کرنے کی نہ صلاحیت رکھتا ہے نہ برداشت‘ یعنی اگر یہ انتخابی نظام گر گیا یا سب چوروں اور لٹیروں نے مل کر اسے گرانے کی کوشش کی تو پھر مستقبل قریب میں کوئی دوسرا ایک اور جمہوری نظام نہیں آئے گا۔ معروف صحافی نے اپنے کالم میں مزید لکھا کہ آج کل کی سیاسی قیادتیں اور قوتیں نہ صرف بے عزت اور بے توقیر ہو چکی ہیں بلکہ یہ ثابت کر چکی ہیں کہ وہ جھوٹ اور دھوکہ دہی پر مبنی ذاتی مفاد اور ملک کے وسائل کو اپنی اور اپنے خاندانوں کی سیاست کیلئے استعمال کر رہی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…