پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

ایران کی وعدے کی خلاف ورزی ، بند بارڈرز کے باوجود 150پاکستانیوں کو دھکے مار کر زبردستی بارڈر کےدھکیل دیا

datetime 29  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سرحدیں بند ہونے کے بعد بھی ایران سے زائرین کی پاکستانی واپسی کا سلسلہ نہ روک سکا ۔ پاکستان کی گزارش کے بعد بھی ایران پاکستانیوں کو تفتان گیٹ پر تنہا چھوڑنے لگ گیا ۔ کرونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ کے خطرے کے پیش نظر پاکستان کی جانب سے پاک ایران تفتان کا بارڈر بند کیا گیا ہے جس کے باعث ایران جانے والے پاکستانی زائرین ایران میں اب بھی موجود ہیں۔

تاہم ایران کی جانب سے پاکستان کے ساتھ عدم تعاون کرتے ہوئے 150 پاکستانی زائرین کو دھکے مار کے زبردستی بارڈر کے اس پار بھیج دیا گیا۔تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر چاغی کا کہنا ہے کہ ایران حکام سے ہم نے گزارش کی تھی پاکستان کے تمام سرحدوں کو سیل کر دیا گیا ہے آپ پاکستانی زائرین کو تفتان پر لا کر نہ چھوڑیں لیکن ہماری گزارش کے باوجود بھی ایران حکام پاکستانیوں کو اپس بھیج رہی ہے ۔ترجمان بلوچستان حکومت نے زائرین کی واپسی کی تصدیق کرتے ہوئے ایران مسلسل پاکستانی زائرین کو واپس بھیج رہا ہے ہم نے ایران حکومت سے درخواست کی تھی کہ پاکستانی زائرین کو 14دن قرنطینہ میں رکھنے کے بعد بھیجے لیکن وہ انہیں قرنطینہ کے بغیر ہی واپس بھجوا رہے ہیں ۔ ہم نے اس سلسلے میں ایران حکام کو اپنا احتجاج بھی ریکارڈ کروایا ہے ۔ایرانی حکام کی جانب سے سنگدلی کا مظاہرہ سامنے آنے کے بعد پاکستانی حکام کی جانب سے بارڈر کے گیٹ کھول دیے گئےتاکہ اپنے ہم وطنوں کو واپس لایا جا سکے اور ان کی مدد کی جائے۔ جبکہ تفتان بارڈر کے قرنطینہ سنٹر میں ایران سے آئے 200 زائرین موجود ہیں جن کا کرونا کا ٹیسٹ کرنے کے بعد تسلی ہونے کے بعد گھر بھیج دیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان میں 78فیصد کرونا مریض ایران سے واپس آئے ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…