جمعرات‬‮ ، 01 جنوری‬‮ 2026 

پاک بھارت تجارت نہ ہونے پر ایشیائی ترقیاتی بینک نے انتہائی حیرت انگیز بات کر دی

datetime 15  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی) ایشیائی ترقیاتی بینک نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اشیا کی تجارت نہ ہونے کے سبب جنوبی ایشیا کی علاقائی تجارت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک کے انسٹیٹیوٹ کے ورکنگ پیپر کے مطابق جنوبی ایشیا کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ہمیں یورپی یونین اور ایسوسی ایشن آف سائوتھ ایسٹ ایشین نیشنز کے تجربات سے سیکھ کر کثیرجہتی انسٹیٹیوٹ کو فروغ دیتے ہوئے علاقائی تعاون کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہاکہ مربوط وسیع معیشت اور تجارت پر توجہ دینے کے لیے خطے کو علاقائی تعاون کے لیے ساوتھ ایشین ایسوسی ایشین کو فروغ دینا چاہیے۔ورکنگ پیپر میں کہا گیا کہ اس کے سیکریٹریٹ کو مضبوط اور معلومات افزا تجارتی، معاشی اور غیرروایتی سیکیورٹی خدشات سے پاک باڈی ہونا چاہیے جس کی ایک سوچ ہو۔اس سلسلے میں مشورہ دیا گیا کہ جنوبی ایشیا کو 2022 تک تمام اراکین کے لیے سارک کی سطح پر مفت تجارتی معاہدے ہر عملدرآمد کرنا چاہیے اور نئے انفرااسٹرکچر کی تشکیل اور تمام سرحدی تنازعات کے حل کیلئے آپس میں تعاون کرنا چاہیے اس حوالے سے کہا کہ معاشی آزادی و خودمختاری، علاقائی انضمام اور غیرروایتی سیکیورٹی خطرات جیسے اہم مسائل کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔چند کامیابیوں کے باوجود سارک کے ادارہ جاری انتظام کے تحت جنوبی ایشیائی ملکوں کا معاشی انضمام زیادہ مضبوط نہیں، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایشیا دنیا میں تیزی سے ترقی کرنے والے خطے کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے جہاں اوسطاً جی ڈی پی میں 7فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے جس سے غربت اور بیروزگاری میں کمی کا امکان ہے،البتہ رکن ممالک میں علاقائی تعاون کی بات کی جائے تو سارک معاشی ترقی کے اصل محرکات سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہا جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ ملکوں کے اپنے پڑوسیوں سے زیادہ خطے کے باہر کے ممالک سے زیادہ بہتر تعلقات ہیں۔ورکنگ پیپر میں کہا گیا کہ جنوبی ایشیا کے معاشی انضمام سے غریب عوام کو مختلف شعبوں میں فائدہ پہنچا جا سکتا ہے

جیسے ٹرانسپورٹ، بہتر توانائی، وسیع تر معلومات، کمیونیکیشن ٹیکنالوجی اور لوگوں کے آپس کے رابطے کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔انہوںنے کہا کہ بھارت کے سوا دیگر جنوبی ایشیائی ملکوں کی معیشت پیداواری نیٹ ورک میں حصہ لینے میں ناکام رہیں،جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کا پیداواری نیٹ ورک اور ویلیو چین پیداواری سرگرمیاں مربوط بنانے کی ضرورت ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ایک یکساں ایشیائی مارکیٹ تیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ سرحدی رکاوٹیں ہٹا کر ایشیا کی مفت نقل و حمل، سروسز، مزدوری، معلومات اور سرمائے کے لیے سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…