جمعرات‬‮ ، 18 جون‬‮ 2026 

پاک بھارت تجارت نہ ہونے پر ایشیائی ترقیاتی بینک نے انتہائی حیرت انگیز بات کر دی

datetime 15  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی) ایشیائی ترقیاتی بینک نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اشیا کی تجارت نہ ہونے کے سبب جنوبی ایشیا کی علاقائی تجارت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک کے انسٹیٹیوٹ کے ورکنگ پیپر کے مطابق جنوبی ایشیا کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ہمیں یورپی یونین اور ایسوسی ایشن آف سائوتھ ایسٹ ایشین نیشنز کے تجربات سے سیکھ کر کثیرجہتی انسٹیٹیوٹ کو فروغ دیتے ہوئے علاقائی تعاون کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہاکہ مربوط وسیع معیشت اور تجارت پر توجہ دینے کے لیے خطے کو علاقائی تعاون کے لیے ساوتھ ایشین ایسوسی ایشین کو فروغ دینا چاہیے۔ورکنگ پیپر میں کہا گیا کہ اس کے سیکریٹریٹ کو مضبوط اور معلومات افزا تجارتی، معاشی اور غیرروایتی سیکیورٹی خدشات سے پاک باڈی ہونا چاہیے جس کی ایک سوچ ہو۔اس سلسلے میں مشورہ دیا گیا کہ جنوبی ایشیا کو 2022 تک تمام اراکین کے لیے سارک کی سطح پر مفت تجارتی معاہدے ہر عملدرآمد کرنا چاہیے اور نئے انفرااسٹرکچر کی تشکیل اور تمام سرحدی تنازعات کے حل کیلئے آپس میں تعاون کرنا چاہیے اس حوالے سے کہا کہ معاشی آزادی و خودمختاری، علاقائی انضمام اور غیرروایتی سیکیورٹی خطرات جیسے اہم مسائل کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔چند کامیابیوں کے باوجود سارک کے ادارہ جاری انتظام کے تحت جنوبی ایشیائی ملکوں کا معاشی انضمام زیادہ مضبوط نہیں، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایشیا دنیا میں تیزی سے ترقی کرنے والے خطے کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے جہاں اوسطاً جی ڈی پی میں 7فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے جس سے غربت اور بیروزگاری میں کمی کا امکان ہے،البتہ رکن ممالک میں علاقائی تعاون کی بات کی جائے تو سارک معاشی ترقی کے اصل محرکات سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہا جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ ملکوں کے اپنے پڑوسیوں سے زیادہ خطے کے باہر کے ممالک سے زیادہ بہتر تعلقات ہیں۔ورکنگ پیپر میں کہا گیا کہ جنوبی ایشیا کے معاشی انضمام سے غریب عوام کو مختلف شعبوں میں فائدہ پہنچا جا سکتا ہے

جیسے ٹرانسپورٹ، بہتر توانائی، وسیع تر معلومات، کمیونیکیشن ٹیکنالوجی اور لوگوں کے آپس کے رابطے کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔انہوںنے کہا کہ بھارت کے سوا دیگر جنوبی ایشیائی ملکوں کی معیشت پیداواری نیٹ ورک میں حصہ لینے میں ناکام رہیں،جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کا پیداواری نیٹ ورک اور ویلیو چین پیداواری سرگرمیاں مربوط بنانے کی ضرورت ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ایک یکساں ایشیائی مارکیٹ تیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ سرحدی رکاوٹیں ہٹا کر ایشیا کی مفت نقل و حمل، سروسز، مزدوری، معلومات اور سرمائے کے لیے سہولیات فراہم کی جا سکیں۔



کالم



فلم میں بھی ہارنے سے انکار


یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…