جمعرات‬‮ ، 29 جنوری‬‮ 2026 

شاہد خاقان کا بیان اعتراف جرم، قوم کے سامنے ناکامیاں قبول عوام 2 خاندانوں کی موروثی و سیاسی ماڈل سے بیزار ، اہم انکشاف

datetime 6  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن )معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات    فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ شاہد خاقان عباسی کا بیان ‘ماضی کے ماڈل ملکی مسائل حل نہ کر سکے نئے راستے تلاش کرنے کی ضرورت ہے’ اعتراف جرم ہے، تین دہائیوں سے قوم پر مسلط رہنے والے آج قوم کے سامنے اپنی ناکامیوں کو قبول رہے ہیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے   انہو ں نے کہا پاکستان کے

عوام عمران خان کو وزیراعظم منتخب کر کے نیا راستہ تلاش کر چکے ہیں، عوام 2 خاندانوں کی موروثی و سیاسی ماڈل سے بیزار ہیں، عوام کی دہائی ہے کہ اب یہ ان پر دوبارہ مسلط نہ ہوں، آج جمہوریت کی باتیں کرنے والے اپنے دور میں آئینی ترمیم کر کے بادشاہ سلامت بننے کی کوشش کرتے رہے۔فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا  کمپنی سیاست  میں تمام شیئرز خاندان ہی کے پاس رہتے ہیں، ان کی جمہوریت یہ تھی کہ بڑا بھائی خود وزیراعظم، چھوٹا وزیراعلی، بھتیجا سب سے بڑے صوبے کا مختاراعلی اور صاحبزادی  سوپر وزیراعظم  کا درجہ رکھتی تھیں، عمران خان عوام کے وہ مقبول رہنما ہے جنھوں نے حقیقی عوامی راج قائم کیا، وزیراعظم کل کراچی پہنچ کر عوامی منصوبوں کا افتتاح کریں گے، کراچی کے مسائل کے تدارک کے لیے طے کردہ ترجیحات کا جائزہ لیں گے ۔ دوسری جانب  سا بق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ملک میں مسائل کے حل کے لیے ایک نیا سیاسی کنٹریکٹ کیا جائے، اس کے بعد آٓزاد اور شفاف الیکشن کرائے جائیں، پہلی بار سیاسی جماعتوں میں ڈائیلاگ نہیں ہو رہا ہے اس کی ذمہ دار حکومت ہے۔شاہد خاقان عباسی نے ن لیگ کے وفد کے ہمراہ فاروق ستار سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کراچی پاکستان کا دل ہے، کراچی ترقی نہیں کرے گا تو پاکستان ترقی نہیں کرے گا، ہم نے اپنے دور حکومت میں کراچی میں ترقیاتی منصوبے شروع کیے، سیاسی جماعتیں ہمیشہ ڈائیلاگ قائم رکھتی ہیں، ہم اقتدار کے حوس کی بات نہیں کرتے عوامی مسائل کی بات کر رہے ہیں۔اس موقع پر فاروق ستار کا کہنا تھا پی ٹی ا?ئی اور نون لیگ کے دور کا موازنہ کیا جائے تو سابق حکومت کا دور بہتر تھا، موجودہ حکومت عوام کے مسائل حل کرنے میں بری طرح ناکام ہوئی ہے، اب ہمیں کراچی کیلئے پیکج اور خیرات نہیں چاہیے، کراچی کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، کراچی کو کم از کم سالانہ 300 ارب ملنے چاہیے۔

موضوعات:



کالم



کاشان میں ایک دن


کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…