منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

”اپنا جسم دیکھو جا کرکوئی تھوکتا نہیں ہے “ میرا جسم میری مرضی کا نعرہ لگانے والی خاتون صحافی ماروی سرمد اور خلیل الرحمان قمر کے درمیان لڑائی،معاملہ گالم گلوچ تک پہنچ گیا

datetime 4  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )نجی ٹی وی  پروگرام میں معروف مصنف خلیل الرحمن قمر اور خاتون صحافی ماروی سرمد کے درمیان لڑائی ہوگئی اور لائیو پروگرام کے دوران معاملہ گالم گلوچ تک پہنچ گیا ۔تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی نیونیوز کے پروگرام میں خلیل الرحمان قمر کے علاوہ صحافی ماروی سرمد اور جے یو آئی ایف کے رہنما سینیٹر مولانا فیض محمد بھی شریک تھے ۔

پروگرام میں عدالت کی جانب سے خواتین مارچ کی اجازت سے متعلق بات چیت جاری تھی۔خلیل الرحمان قمر نے صحافی ماروی سرمد کی گفتگو سننے کے بعد اپنی رائے دینے کیلئے گفتگو شروع کی اور کہا کہ ” عدالت نے اگر یہ منع کر دیا ہے کہ ” میرا جسم مری مرضی “ جیسے غلیظ نعرے کومنہا کر دیا جائے تو میں یہ جملہ جب ماروی سرمد کو قرو فر کے ساتھ کہتے ہوئے سنتا ہوں تو میرا کلیجہ ہل جاتا ہے ۔“خلیل الرحمان قمر اپنے روایتی انداز میں گفتگو جاری رکھے ہوئے تھے کہ اس دوران صحافی ماروی سرمد بیچ میں بول پڑیں اور انہوں نے وہی نعرہ ” میرا جسم میری مرضی “ اونچی آواز کر کے لگا دیا جس پر خلیل الرحمان قمر شدید غصے میں آ گئے اور سخت لحجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ’ ’ بیچ میں مت بولو ۔“مصنف کا غصہ بڑھتا ہی چلا گیا اور انہوں نے صحافی ماروی سرمد کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ” تیرے جسم میں ہے کیا ، اس پر مرضی چلاتا کون ہے ، جا کر اپنا جسم دیکھو ، بے حیاعورت کے جسم پر کوئی تھوکتا بھی نہیں ہے ۔“جب خلیل الرحمان قمر کی جانب سے یہ بات کہی گئی تو صحافی ماروی سرمد بھی غصے میں آ گئیں اور انہوں نے مصنف کو ” شٹ اپ “ کال دی لیکن جس پر خلیل الرحمان قمر نے انہیں جواب میں کہا کہ ” آپ بکواس بند کریں “ ۔

بات یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ مصنف مزید برہم ہو گئے اور انہوں نے گالم گلوچ کرتے ہوئے انہیں ” الو کی پٹھی “ قرار دیا اور کہا کہ بدتمیز عورت ۔اس دوران پروگرام کی میزبان بیچ بچاؤ کروانے کی کوشش کرتی رہیں لیکن بات دائرے سے باہر نکلتی چلی گئی ، خلیل الرحمان قمر نے کہا کہ ” آپ امریکہ میں تحقیق کر رہی ہیں ، بے حیائی کی تحقیق کر رہی ہیں ، شکل دیکھو جا کر اپنی ، آپ سے درخواست کی تھی کہ میں نے آپ کی بات غور سے سنی اب میری بات بھی سنیں ۔“



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…