منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

ایران سے آنے والے زائرین کی تعداد تفتان بارڈر پر دو ہزار سے تجاوز کر گئی، زائرین کو پاکستان ہائوس تک محدود رکھا جائے، تاجر بھی بھڑک اٹھے

datetime 2  مارچ‬‮  2020 |

چاغی(آن لائن)ایران سے دوہزار سے زائد زائرین تفتان بارڈر پہنچ گئے، زائرین کو اسکریننگ کے بعد پاکستان ہاوس میں رکھا جارہا ہے محکمہ صحت کے مطابق ایران سے آنے والے زائرین کی تعداد تفتان بارڈر میں دو ہزار سے تجاوز کر گئے ایران سے آنے والوں کی مکمل اسکریننگ اور طبی چیک اپ کیا جارہا ہے اب تک دو ہزار سے زائد زائرین کی اسکریننگ مکمل ہوچکی ہے ادھر زائرین بروز پیر انتظامیہ کے خلاف شدید احتجاج کیا

زائرین کا موقف تھا اسکریننگ کے بعد ہمیں اپنے شہروں میں جلداز جلد روانہ کیا جائے تاکہ مزید آنے والے زائرین کو پریشانی نا ہوں زائرین نے تفتان بازار میں ریلی نکالی گئی اور شدید مظاہرہ کیا دوسری جانب زائرین کی تفتان بازار میں داخل ہونے پر تفتان بازار کے تاجر برادری نے بھی دوکانیں بند کرکے احتجاج کیا تاجروں کا کہنا تھا زائرین کو پاکستان ہاوس تک محدود رکھے اس طرح زائرین کو بازار میں گھومنے پھرنے دینے سے عوام میں تشویش پھیل جاتا ہے تاجر برادری کی جانب سے حاجی خدا نظر نے مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا زائرین کو انتظامیہ باہر آنے نا دیں اس طرح زائرین کا آزادانہ گھو منے پھرنے سے عوام کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑھ رہا ہے بعد ازہ انتظامیہ نے دونوں سے مزکرات کرکے مشتعل مظاہرین کو منتشر کردیا اس متعلق ضلعی اور مقامی انتظامیہ کو بار بار فون کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ انتظامیہ کا موقف معلوم ہوسکیں زائرین پاکستان ہاوس کے قرنطینہ سے کیسے باہر آگئے مگر انتظامیہ کی جانب سے کسی نے بھی فون اٹینڈ نہیں کیا اور اپنا موقف دینا گوارہ نہیں سمجھا یاد رہے ایران میں کرونا وائرس کے پیش نظر تفتان بارڈر نویں روز بھی بند رہا صرف زائرین اور راہداری کے ذریعے آنے والوں کے لیئے کھلا رکھا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…