منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

پاکستان سے افغان مہاجرین کی واپسی کا دوبارہ آغاز فی کس کتنے ڈالردئیے جائینگے؟پڑھئے تفصیلات

datetime 2  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد( آن لائن )پاکستان سے افغان مہاجرین کی رضاکارانہ واپسی کا دوبارہ آغاز ہو گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق افغانستان اضاخیل رجسٹریشن سینٹر سے پہلا خاندان افغانستان کے لیے روانہ ہو گیا۔اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین نے افغان کمشنر ایٹ کے تعاون سے اضاخیل پایان میں رجسٹریشن سینٹر قائم کر دیا ہے۔جس میں نادرا،افغان کمشنر ایٹ اور یو این ایچ سی آر کے دفاتر قائم کر دئیے گئے ہیں۔

افغان مہاجر سہیل خان کا چھ افراد پر مشتمل پہلا خاندان افغانستان روانہ ہو گیا۔یواین ایچ سی ر کے ترجمان قیصر خان آفریدی کے مطابق افغانستان پہنچنے پر افغان مہاجرین کو فی کس 200 ڈالر دئیے جائیں گے۔ڈائرایکٹر سلوشن اسٹریٹجی اینڈ دی پیٹری ایشن فضل ربی کہتے ہیں کہ افغان مہاجرین کی رضاکارانی واپسی کا عمل نومبر تک جاری رہیگا۔۔ انھوں نے بتایا کہ پاکستان میں اس وقت14 لاکھ رجسٹرڈ افغان مہاجرین مختلف شہروں میں قیام پذیر ہیں اور 2002  سے اب تک رضاکارانہ طریقہ کار کے تحت پاکستان سے 44 لاکھ افغان مہاجرین وطن واپس جاچکے ہیں۔انھوں نے کہا کہ رضاکارانہ واپسی کا طریقہ کار یکم مارچ سی30 نومبر تک9 مہینوں کیلئے جاری رہتا ہے جس کے بعد یکم دسمبر سے 28فروری تک افغانستان میں شدید سردی کے باعث رضاکارانہ واپسی کا عمل ہر سال تین ماہ کے لیے روکا جاتا ہے، انھوں نے کہا کہ رضاکارانہ طور پر واپس جانے والے افغان مہاجرین کو قندہار، ننگرہار اور کابل میں فی کس دو سو ڈالر دیئے جاتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کے پی او آر کارڈز کی مدت30 جون 2020 تک ہے تاہم یو این ایچ سی آر حکومت پاکستان سے افغان مہاجرین کے قیام میں توسیع کے حوالے سے رابطے میں ہے۔ انھوں نے کہا کہ توقع ہے کہ افغان مہاجرین کی قیام میں مزید توسیع ہوجائے گی۔واضح رہے کہ پاکستان میں31 جنوری2020 تک رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی تعداد 14 لاکھ 18ہزارسے زائد بتائی جاتی ہے جبکہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین(یو این ایچ سی آر) کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق یکم مارچ 2019 سے نومبر 2019 تک پاکستان سے مجموعی طورپر6220 رجسٹرڈ افغان مہاجرین واپس چلے گئے ہیں جن میں سے 6035 افغان مہاجرین کو نقد مالی امداد فراہم کی گئی جبکہ باقی 185افراد پہلے ہی یہ امداد حاصل کرچکے ہیں۔‎



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…