منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

فلیٹ سے 12 سال پرانی لاش کی باقیات ملنے کے واقعے کی تحقیقات میں پیش رفت

datetime 24  فروری‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں فلیٹ سے 12 سال پرانی لاش کی باقیات ملنے کے واقعے کی تحقیقات میں پیش رفت ہوئی ہے۔ پولیس نے خاتون زکیہ بی بی کے بیٹے قیصر اور بیٹی شگفتہ کے زیرِاستعمال گاڑیوں کے فرانزک اور تلاشی کا فیصلہ کیا ہے۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق پولیس نے دونوں بہن بھائیوں کے قتل کا شبہ ظاہرکیا ہے۔ پولیس کے مطابق شگفتہ کی موت سے قبل ماموں نے

فلیٹ سے لیپ ٹاپ اورگاڑیوں کے کاغذات چوری کیے تھے۔دوسری جانب تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ڈی این اے رپورٹ کے بعد قتل کا واضح پتہ چلے گا،لیپ ٹاپ اورکاغذات شگفتہ کی موت کے بعد چوری کیے گئے جبکہ شگفتہ کو مرنے سے قبل ماموں زاد بھائی نے کھانا دیا تھا۔ تفتیشی حکام کے مطابق اہل محلہ نے بیان دیا ہے کہ کھانا دینے کے4 دن بعد شگفتہ کا انتقال ہوا۔واضح رہے کہ کراچی کی اسکول ٹیچر ذکیہ  گلستان جوہر کریسینٹ اپارٹمنٹ کی رہائشی تھیں۔ ان کا ایک بیٹا قیصر چارٹرڈ اکائونٹنٹ تھا اور ایک بیٹی شگفتہ تھی جنہوں نے ذکیہ کے 2008 میں انتقال کرنے کے بعد لاش دفنانے سے انکار کردیا تھا۔فلیٹ سے تعفن اٹھنے پر پڑوسی سوال کرتے تو دونوں بھائی بہن جھگڑا کرتے تھے جس کے بعد انھوں نے سوال کرنا ہی چھوڑ دیا تھا۔تین سے چارسال لاش کے ساتھ گھر میں گزارنے کے بعد دونوں بہن بھائی گلشن اقبال بلاک 4 کے گھر میں منتقل ہوگئیمگر ہر ماہ باقاعدگی سے بجلی گیس وغیرہ کے بل لینے اور اپنی ماں کی لاش کو دیکھنے ضرور گلشن اقبال آیا کرتے تھے۔ 4اکتوبر2019کو ہارٹ اٹیک سے قیصر کی موت ہوگئی جس کے غم میں بہن شگفتہ نے کھانا کھانا چھوڑدیا اور 29جنوری 2020 کو اس کی بھی موت ہوگئی۔ان کی وفات کے بعد ان کے ماموں محبوب نے بہن کی لاش کی باقیات ٹھکانے لگانے کا فیصلہ کیا۔ اس دوران پولیس کو ذکیہ کی لاش کی باقیات کراچی کی کچرا کنڈی سے ملیں تو فوٹیج کی مدد سے کھوج لگا کر محبوب تک پہنچی اور اسے گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا۔مقدمے کی دفعات میں جرم چھپانے ، لاش کی بے حرمتی اور قتل کی دفعات شامل کی گئیں۔‎



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…