منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

یہ ہے نیا پاکستان؟ چھوٹے سے گھر کابجلی کا بل29 ہزارروپے 2بچوں کی ماں نے خودکشی کرلی

datetime 19  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)بجلی کا بل زیادہ آنےپر 2بچوں کی 38سالہ ماں نے خودکشی کر لی ۔ تفصیلات کے مطابق خاتو ن کے شوہر کانام ارشاد احمد ہے جسے 29 ہزار روپے بجلی کا بل بھیج دیا گیا تھا۔

ارشاد احمد نے سرکاری دفاتر کے بار بار چکر لگائے جس میں اس کا موقف تھا کہ انہیں غلط بل بھیج دیا گیا ہے اور حکام آ کر اس کا میٹر چیک کریں۔متعدد بار چکر لگانے کے بعد بھی ارشاد احمد کی ایک بھی نہ سنی گئی جس کے بعد اس نے فیصلہ کیا کہ و ہ اپنی بیوی کو اس بات پرمنانے کی کوشش کرے گا کہ وہ اپنے زیورات بیچ دے اور و ہ اس رقم سے بل جمع کروا دیں گے۔بیوی کو منانے کی کوشش ناکام ہو گئی جس کے بعد ارشاد احمد اور اس کی بیوی میں تلخی پیدا ہو گئی۔تلخی پر خاتون سے پریشر برداشت نہ ہو سکا جس کی وجہ سے اس نے خودکو پھانسی دے دی۔پولیس کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق رشتہ داروں نے بتایا ہے کہ ارشاد احمد کا بل 2000 سے زیادہ کبھی نہیں آیا۔ اس دفعہ 29 ہزار کا بل موصول ہونے کی وجہ سے ارشاداحمد اور اس کی بیوی دونوں بہت پریشان تھے کیونکہ وہ بل جمع نہیں کروا سکتے تھے اور اسی وجہ سے دونوں میں تلخی پیدا ہو گئی اور ارشاداحمد کی بیوی نے خودکشی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…