جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

حکومت کامستحقین کو مویشی،رکشے اور ٹھیلے مفت فراہم کرنے کا فیصلہ

datetime 18  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد( آن لائن) حکومت نے احساس اثاثہ جات پروگرام کے تحت مستحقین میں 60 ہزار روپے مالیت تک کے مویشی،رکشے اور ٹھیلے مفت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق حکومت نے مستحق افراد کو احساس پروگرام کے تحت مفت اثاثہ جات فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس کے تحت غریب ترین افراد کو مقامی سطح پر روزگار فراہم کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔

احساس ‘‘اثاثہ جات اسکیم’’ کا باقاعدہ آغاز وزیراعظم 21 فروری کو جنوبی پنجاب سے کریں گے۔ اس پروگرام کے تحت احساس اثاثہ جات پروگرام کے تحت ابتدائی طور پر ملک کے 23 اضلاع کی 375 یونین کونسلوں میں 15 ارب روپے تقسیم ہوں گے اور ایک لاکھ 76 ہزار خاندان اس سے مستفید ہوں گے۔ پروگرام کے تحت فی خاندان 60 ہزارروپے تک کی گائیں، بکریاں، رکشے اور ٹھیلے مفت دیئے جائیں گے، اس کے علاوہ انہیں اس حوالے سے ضروری تربیت بھی فراہم کی جائے گی تاکہ یہ اثاثے ان کے لئے باعزت روزگار کا ذریعہ بنیں۔ احساس پروگرام کی چیئرپرسن ڈاکٹر ثانیہ نشتر کا کہنا ہے کہ احساس اثاثہ جات پروگرام غریب ترین افراد کے لیے باعزت ذریعہ آمدن بنے گا، ابتدائی طور پر منصوبے میں خیبر پختوخوا کے 10، پنجاب کے 3، سندھ کے 7 اور بلوچستان کے 3 اضلاع شامل ہیں، اس سے لاکھوں بے روزگار افراد کو روزگار میسر آئے گا، مستحقین کا تعین احساس پروگرام کے غربت سروے کے تحت کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…