جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

مولانا فضل الرحمان کی اصل ناراضگی ہم سے نہیں بلکہ کس سے ہے؟ملکی معیشت کو کون سنبھال سکتا ہے؟ شاہد خاقان عباسی نے نئے انتخابات کا مطالبہ کر دیا

datetime 13  فروری‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (این این آئی)سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ملک میں نئے انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ ان ہاؤس تبدیلی سے بھی نظام نہیں چلے گا،ان ہاؤس تبدیلی سے اس سے بری کھچڑی پکے گی،مفتاح اسماعیل کے علاوہ کوئی ملکی معیشت کو نہیں سنبھال سکتا،روایتی انتخابات نہیں، حقیقی معنوں میں آزادانہ، غیرجانبدارانہ اور شفاف انتخابات سے ہی مسائل کا حل ممکن ہیں،مجھ پر، احسن اقبال، سعد رفیق اور احسن اقبال سمیت کسی پر بھی کرپشن کا کیس نہیں،

مولانا فضل الرحمان کی اصل ناراضگی ہم سے نہیں چوہدری پرویز الہی سے ہے۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے ملک میں نئے انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کردیا۔ انہوں نے کہاکہ ان ہاؤس تبدیلی سے بھی نظام نہیں چلے گا،ان ہاؤس تبدیلی سے اس سے بری کھچڑی پکے گی۔ انہوں نے کہاکہ مفتاح اسماعیل کے علاوہ کوئی ملکی معیشت کو نہیں سنبھال سکتا،پاکستان کے مسائل کا واحد حل نئے انتخابات ہیں۔ انہوں نے کہاکہ روایتی انتخابات نہیں، حقیقی معنوں میں آزادانہ، غیرجانبدارانہ اور شفاف انتخابات سے ہی مسائل کا حل ممکن ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے عوام کو انتخابات میں آزادانہ طور پر اپنی نئی حکومت منتخب کرنے کا حق دیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ نوازشریف سمیت مسلم لیگ ن کے کسی رہنما پر کرپشن کا کوئی کیس بنایا نہیں جا سکا۔ انہوں نے کہاکہ نوازشریف کو بیٹے سے پیسے لینے پر نا اہل قرار دیا گیا۔انہوں نے کہاکہ مجھ پر، احسن اقبال، سعد رفیق اور احسن اقبال سمیت کسی پر بھی کرپشن کا کیس نہیں۔ انہوں نے کہاکہ مولانا فضل الرحمان نے اپنی سیاسی طاقت ثابت کردی،مولانا فضل الرحمان کی اصل ناراضگی ہم سے نہیں چوہدری پرویز الہی سے ہے۔انہوں نے کہاکہ مولانا فضل الرحمان سے وعدے تو چوہدری پرویز الہٰی نے کیے تھے۔شاہد خاقان عباسی نے اپنے خلاف نئے ریفرنس کو دباؤ میں لانے کی ایک اور کوشش قرار دے دیا۔ انہوں نے کہاکہ نیب کے اس ریفرنس کا واحد مقصد ہراساں کرنا ہے،

مجھ پر پہلا ریفرنس 46 ارب کا تھا اب تیرہ کروڑ کا ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیر کا ایم ڈی پی ایس او کی تقرری سے کوئی تعلق نہیں ہوتا،ایم ڈی پی سی او کی تقرری بورڈ نے پراسس کے تحت کی تھی۔ انہوں نے کہاکہ نیب آرڈیننس کے مطابق تقرری میں پروسیجرل غلطی کی بنیاد پر ریفرنس دائر نہیں ہوسکتا،نیب آرڈیننس کے تحت راجہ پرویز اشرف کی رہائی کا فیصلہ بھی آچکا ہے۔ انہوں نے کہاکہ نیب نے اس کے باوجود مجھ پر ریفرنس دائر کردیا ہے،مجھے اپنے خلاف نیا نیب ریفرنس دائر ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…