بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

بس اسی کی کمی رہ گئی تھی۔۔۔!!! ہم جنس پرستی کی اجازت کے قانو ن کیلئے تحریک پارلیمنٹ میںلائی جائے،پاکستانی نوجوانوں کی بڑی تعدادکا مطالبہ ، علما سے بھی رابطہ

datetime 10  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)معروف صحافی اور کالم نگار حامد میر اپنے آج کے کالم’’لاپتہ خوشبو‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔بڑے بیورو کریٹ حکومت اور اپوزیشن کے میل جول کو ہمیشہ اپنے لئے ایک خطرہ سمجھتے ہیں حالانکہ یہ بیچارے سیاستدان دن رات ان سرکاری افسران کی ٹرانسفر اور پوسٹنگ کیلئے سفارشوں میں مصروف رہتے ہیں۔

ہماری اس محفل میں اپوزیشن کے ایک سینیٹر نے بڑا انوکھا مسئلہ چھیڑ دیا۔وہ بتا رہے تھے کہ کافی دنوں سے بعض پڑھے لکھے نوجوان مختلف اراکینِ پارلیمنٹ سے رابطے کر رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک میں ہم جنس پرستی کو قانونی تحفظ مل چکا ہے لہٰذا پاکستان میں بھی ہم جنس پرستی کی اجازت ملنی چاہئے۔یہ سن کر مجھے لاپتا خوشبو بھول گئی۔ سینیٹر صاحب بتا رہے تھے کہ جب انہوں نے یہ بات کرنیوالے ایک نوجوان سے کہا کہ تم نماز پڑھا کرو تاکہ تمہارے دل و دماغ سے یہ فاسد خیالات نکل جائیں تو اس نے کہا کہ آپ سینیٹ میں ایک تحریک تو پیش کر دیں۔ اُنہوں نے سختی سے انکار کیا تو اُنہیں دھمکی دی گئی کہ ہم تمہیں دیکھ لیں گے۔سینیٹر صاحب کا کہنا تھا کہ نوجوانوں میں ذہنی انتشار اور کنفیوژن بڑھ رہی ہے کیونکہ جب قومی اسمبلی معصوم بچوں سے زیادتی کرنیوالوں کو سرِعام پھانسی دینےکا مطالبہ کرتی ہے تو کوئی وزیر کہہ دیتا کہ سرِعام پھانسی اچھی بات نہیں اور پھر بحث یہ نہیں ہوتی کہ معصوم بچوں کیخلاف جرائم کیسے کم کئے جائیں، بحث یہ ہونے لگتی ہے کہ سرِعام پھانسی کی ہمارے دین اور آئین میں گنجائش موجود ہے یا نہیں؟یہاں یہ بھی پتا چلا کہ ہم جنس پرستی کے حامیوں نے پارلیمنٹ میں موجود کچھ علماء سے بھی رابطہ کیا ہے لیکن وہ خاموش ہیں۔ یہ گفتگو بڑی پریشان کن تھی۔میں سوچ رہا تھا کہ نوجوان کسی معاشرے کا اصل حسن اور خوشبو ہوتے ہیں جب نوجوان غیر ضروری اور غیر فطری معاملات میں پھنس جائیں تو پورے معاشرے کی خوشبو خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…