بدھ‬‮ ، 02 ستمبر‬‮ 2026 

مجموعی قرضوں کے حجم میں 11.61 ٹریلین روپے کا اضافہ، دھماکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

datetime 2  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)وزارت خزانہ نے جولائی2018ء سے ستمبر2019ء تک کے 15 ماہ میں مجموعی قرضوں کے حجم میں ہونے والے11.61 ٹریلین روپے کے اضافہ کی تفصیلات جاری کر دیں جس کمے مطابق 4.11 ٹریلین روپے قرض(کل اضافے کا35 فیصد) مالی خسارہ پورا کرنے کے حاصل کیا گیا،3.54 ٹریلین روپے قرض (کل اضافے کا31 فیصد) روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے بڑھا

جو پچھلی حکومت کی غلط شرح مبادلہ اور ناقص صنعتی او تجارتی پالیسیوں کی وجہ سے ہوا جس سے بھاری اور ناقابل برداشت حد کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ پیدا ہو گیا جس پر قابو پانے کے لیے کرنسی کی شرح تبادلہ میں فوری کمی لانا پڑی۔وزار ت خزانہ کے مطابق 3.13 ٹریلین روپے قرض(کل اضافہ کا 27 فیصد) کا اضافہ حکومت کی جانب سے سٹیٹ بنک آف پاکستان سے مستقبل میں قرض نہ لینے کے فیصلہ کے بعد کیش بیلنس کی سطح بڑھانے سے ہوا ہے جو مشکل اورغیر متوقع حالات سے نبٹنے کے لیے محفوظ کی گئی ہے تاہم اس کا مجموعی قرض پر کوئی اثر نہیں پڑتا ہے۔ سٹیٹ بنک آف پاکستان کے پاس قرض کی تلافی یا خلا پر کرنے کے لیے لکوئیڈ اثاثہ جات دستیاب ہیں۔وزار ت خزانہ کے مطابق 0.47 ٹریلین روپے قرض(4 فیصد) کاا ضافہ سرکاری اداروں کی جانب سے ان کی مالی ضروریات پورا کرنے کے لیے حاصل کردہ قرضے کی وجہ سے ہواہے۔وزار ت خزانہ کے مطابق 0.08 ٹریلین روپے قرض(منفی01 فیصد) کموڈٹی آپریشن کی مد میں قرض کی واپسی کے لیے لیا گیا جو کہ ایک خوش آئند امر ہے۔وزار ت خزانہ کے مطابق 0.25 ٹریلین روپے قرض(کل اضافہ کا2 فیصد) کا اضافہ سٹیٹ بنک آف پاکستان کے جاری کردہ پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز(پی آئی بی) کی فیس ویلیو جو کہ قرضے کے اندراج کے لیے استعمال ہوتی ہے اور حاصل شدہ ویلیو جس کا بجٹ وصولی کے طور پر اندراج ہوتا ہے،میں فرق کی وجہ سے ہے۔

وزار ت خزانہ کے مطابق 0.8 ٹریلین روپے قرض(کل اضافہ کا2 فیصد) کا ضافہ پاکستان کے نجی شعبے کے غیر ملکی قرضوں کے حجم میں ہوا جس سے ملک کے نجی شعبے کی اپنی کاروباری سرگرمیوں کو بڑھاوا دینے کے لیے عالمی مالیاتی اداروں سے اشتراک و روابط کی عکاسی ہوتی ہے تاہم نجی شعبے کا قرضہ حکومت کی ذمہ داری نہیں ہے اور نہ ہی یہ غیر ملکی زر مبادلہ پر اپنے نتائج کے اعتبار سے مجموعی قرضوں اور ادائیگیوں کے حجم میں شامل ہوتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…